تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 4

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد سورة التغابن بھی ختم نہ ہوتا۔ غرض مال سے مراد كُلَّمَا يَمِيلُ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ہے۔ اولاد کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ انسان اولا دجگر کا ٹکڑا اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔ مختصر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور انسان کے محبوبات میں ضد ہے۔ دونوں باتیں یک جا جمع نہیں ہو سکتیں۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ صفحه ۲) مال اور اولاد تمہاری دشمن ہیں۔ ان سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ اگر زندہ رہے تو ممکن ہے کہ نا فرمان ہو۔ مرتد ہو جاوے۔ بدکار ہو، چور یا ڈاکو بن جاوے۔ مر جاوے تو پھر ویسے ابتلا آ جاتا ہے۔ پس ہر حالت میں موجب فتنہ اور ابتلاء ہوتی ہے مگر جب مومن کو خدا سے تعلق ہوتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کہ اگر یہ بچہ مر گیا ہے تو کیا ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ( البقرة : ۱۰۷ ) دیکھو آنحضرت کے ۱۲ بچے فوت ہوئے ۔ ایمان تو وہ ہوتا ہے جس میں لغزش نہ ہو اور ایسے ایمان والا خدا کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ ہاں اگر بچہ خدا سے زیادہ محبوب ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا شخص خدا پر ایمان کا دعوٹی کر سکے۔ اور وہ کیوں ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ ہم نہیں جان سکتے کہ ہماری اولادیں کیسی ہوں گی ۔ صالح ہوں گی یا بدمعاش ۔ اور نہ اُن کے ہم پر کوئی احسان ہیں اور خدا کے تو ہم پر لاکھوں لاکھ احسان ہیں ۔ پس سخت ظالم ہے وہ شخص کہ اس خدا سے تعلق توڑ کر اولاد کی طرف تعلق لگاتا ہے ۔ ہاں خدا کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق کا بھی خیال رکھو ۔ اگر خدا پر تمہارا کامل ایمان ہو تو پھر تو تمہارا یہ مذہب ہونا چاہیے کہ هر چه از دوست میرسد نیکوست اور اس ایمان والے کے شیطان قریب بھی نہیں آتا۔ م الحکم جلد ۸ نمبر ۳۸، ۳۹ مورخه ۱۰ و۱۷ نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۱۴) بہت سے لوگ ہیں جو چھپے ہوئے مرتد ہیں ۔ بہت سے ایسے ہیں جو باوجود اس کے کہ وہ بیعت میں داخل ہیں اور پھر مجھے خط لکھتے ہیں کہ فلاں شخص نے مجھے کہا کہ جب تک تیرے گھر بیٹا نہ ہو وہ کیوں کر سچا ہو سکتا ہے؟ یہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ کیا خدا نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو بیٹے دوں؟ کسی کے گھر بیٹا ہو یا بیٹی مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں اور نہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں۔ میں تو اس لیے آیا ہوں کہ تالوگوں کے ایمان درست ہوں ۔ پس جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے ایمان درست ہوں اور خدا تعالیٰ سے ان کا سچا تعلق پیدا ہوان کو میرے ساتھ تعلق رکھنا چاہیے خواہ بیٹے مریں یا جئیں ۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ تو