تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 5

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التغابن فرماتا ہے کہ اِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ -۔جولوگ ایسے خطوط لکھتے ہیں یا اپنے دل میں ایسے خیالات رکھتے ہیں وہ یا درکھیں اور خوب یا درکھیں کہ وہ مجھ پر نہیں خدا تعالی پر اعتراض کرتے ہیں۔یقیناً سمجھو کہ میرے پیچھے آنا ہے اور بچے مسلمان بننا ہے تو پہلے بیٹوں کو مارلو۔بابا فرید کا مقولہ بہت صحیح ہے کہ جب کوئی بیٹا مر جاتا تو لوگوں سے کہتے کہ ایک کتورہ ( کتنی کا بچہ ) مر گیا ہے اس کو دفن کر دو۔پس کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہیں کر سکتا جب تک باوجود اولاد کے بے اولاد نہ ہو اور باوجود مال کے دل میں مفلس و محتاج نہ ہو اور باوجود دوستوں کے بے یارو مددگار نہ ہو۔یہ ایک مشکل مقام ہے جو انسان کو حاصل کرنا چاہیے۔اسی مقام پر پہنچ کر وہ سچا خدا پرست بنتا ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۷،۶ ) اولاد چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں۔پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے۔ذرا سا پیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آ جاتے ہیں۔نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز۔اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔پس ان کی اس قدر محبت اور پیار سے فائدہ کیا جس سے شرک لازم آئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ اولاد اور مال انسان کے لئے فتنہ ہوتے ہیں۔دیکھو اگر خدا کسی کو کہے کہ تیری کل اولا د جو مر چکی ہے زندہ کر دیتا ہوں مگر پھر میرا تجھ سے کچھ تعلق نہ ہوگا تو کیا اگر وہ عقلمند ہے اپنی اولاد کی طرف جانے کا خیال بھی کرے گا۔پس انسان کی نیک بختی یہی ہے کہ خدا کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھے۔جو شخص اپنی اولاد کی وفات پر برامنا تا ہے وہ بھیل بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس امانت کے دینے میں جو خدا نے اس کے سپرد کی تھی بخل کرتا ہے اور بخیل کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ اگر وہ جنگل کے دریاؤں کے برابر بھی عبادت کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔پس ایسا شخص جو خدا سے زیادہ کسی چیز کی محبت کرتا ہے اس کی عبادت نماز روزہ بھی کسی کام کے نہیں۔حضرت ایوب کی طرف دیکھو کہ وہ کیسے صابر تھے خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآن شریف میں بھی کیا ہے کہ وہ میرا ایک صابر بندہ ہے۔پہلی کتابوں میں ان کا ذکر ہاتفصیل لکھا ہے کہ شیطان نے خدا تعالیٰ سے کہا کہ ایوب کیوں صبر نہ کرے کہ اس کو تو نے مال دیا ہے۔دولت دی ہے۔غلام دیئے ہیں۔نوکر چاکر دیئے کہاک