تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 282

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۲ سورة الشمس جاتا ہے۔چونکہ ابتدائی مراحل اور منازل میں منتقی کو بڑی بڑی مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۵۴) لئے فلاح سے تعبیر کیا ہے۔اس کو فتح دی جاتی ہے جو تزکیہ کرتا ہے چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَتهَا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۱ صفحه (۲) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَ تھا۔یعنی وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کا کیا نجات پا گیا۔سونجات سے حصول معرفتِ تامہ مراد ہے کیونکہ تمام عذاب اور ہر یک قسم کے عقوبات جہل اور ضلالت پر ہی مرتب ہوں گے۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۶۰،۵۹ مکتوب نمبر ۲۹ بنام میر عباس علی شاه ) وہ انسان بہت ہی بڑی ذمہ داری کے نیچے ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی آیات اور نشانات کو دیکھ چکا ہو۔پس کیا تم میں سے کوئی ہے جو یہ کہے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں انسان ان کے گواہ ہیں۔جوان نشانوں کی قدر نہیں کرتا اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔خدا تعالی اس کو دشمن سے پہلے ہلاک کرے گا کیونکہ وہ شدید العقاب بھی ہے۔جو اپنے آپ کو درست نہیں کرتا وہ نہ صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے بلکہ اپنے بیوی بچوں پر بھی ظلم کرتا ہے کیونکہ جب وہ خود تباہ ہو جاوے گا تو اس کے بیوی بچے بھی ہلاک اور خوار ہوں گے۔خدا تعالیٰ اس کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے وَلَا يَخَافُ عُقبها - الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی بدکاریاں اور شوخیاں اس حد تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں کہ جب وہ خدا کے غضب سے ہلاک ہوتا ہے تو اس لعنت اور غضب کا اثر اس کی اولاد تک بھی پہنچتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے وَلَا يَخَافُ عُقْبُهَا - عُقبها سے اولا داور پسماندگان مراد ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰رجون ۱۹۰۲ ء صفحه ۸) خدا کی شان ہوتی ہے۔پلیدوں کے عذاب پر وہ پرواہ نہیں کرتا کہ ان کی بیوی بچوں کا کیا حال ہوگا اور صادقوں اور راستبازوں کے لئے گانَ ابُوهُمَا صَالِحًا کی رعایت کرتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۲ء صفحه ۴) حدیث شریف اور قرآن مجید سے ثابت ہے اور ایسا ہی پہلی کتابوں سے بھی پایا جاتا ہے کہ والدین کی بدکاریاں بچوں پر بھی بعض وقت آفت لاتی ہیں۔اسی کی طرف اشارہ ہے وَ لَا يَخَافُ عُقْبُهَا جولوگ لا ابالی زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔دیکھو دنیا میں جو اپنے آقا کو