تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 281

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۱ سورة الشمس عذاب نہ آجائے۔اللہ تعالیٰ نے کمال رحمت سے سب دکھوں سے بچنے کی راہ بتادی اب کوئی اگر ان دکھوں سے، ان گناہوں سے نہ بچے تو اسلام پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔اخبار بدر جلد نمبر ۱۹ ۲۰ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ صفحه ۶،۵) جس نے ارضی جذبات سے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بچ گیا اور نہیں ہلاک ہو گا مگر جس نے ارضی جذبات میں جو طبعی جذبات ہیں اپنے تئیں چھپادیاوہ زندگی سے ناامید ہو گیا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۱۹) إنَّ الدُّنْيَا شَاجِبَةٌ، وَأَسودُهَا دنیا درختوں سے پر جنگل ہے اور اس کے شیر پھاڑ کھانے مُفتَرِسَةٌ فَلَا تَجُولُوا في بويها والے ہیں پس تم ان جنگلوں میں مت پھرو۔اور اپنے نفوس کو ان وَامْنَعُوا نُفُوسَكُمْ مِنْ جُزاتها کی بیا کی اور جرات سے روکو۔اور ان کو پاک کرو۔اور چاندی وَجوْنِهَا وَزَلُوهَا وَبَيْضُوهَا کی طرح صاف و شفاف کرو۔اور ان کو اس وقت تک مت كَاللُّجَيْنِ، وَلَا تَترُكُوهَا حَتَّى نَصِیر چھوڑو جب تک کہ وہ میل اور عیب سے پاک نہ ہو جائیں۔اور نَقِيَّةٌ مِنَ اللَّدَنِ وَالشَّيْنِ۔وَقَدْ و شخص نجات پا گیا جس نے ارضی جذبات سے اپنے نفس کو أَفْلَحَ مَنْ زَكَاهَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ پاک کیا اور وہ ناکام و نامرادرہا جس نے جو ہر نفس کو خاک میں پوشیدہ کر دیا۔( ترجمه از مرتب ) دَسَّاهَا وہ (مواهب الرحمٰن ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۹۹) نفسانی گرفتاریوں سے وہ شخص نجات پا گیا اور بہشتی زندگی کا مالک ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک بنالیا اور نا کام اور نا مرا در باوہ شخص جس نے اپنے نفس کو زمین میں دھنسایا اور آسمان کی طرف رخ نہ کیا۔اور چونکہ نا یہ مقامات صرف انسانی سعی سے حاصل نہیں ہو سکتے اس لئے جابجا قرآن شریف میں دعا کی ترغیب دی ہے اور مجاہدہ کی طرف رغبت دلائی ہے۔لیکھر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۳) ہدایت الہی تو یہ ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَتهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشَهَا۔نجات پائے گا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا اور ہلاک ہو گیا وہ آدمی جس نے نفس کو بگاڑا۔فلح چیرنے کو کہتے ہیں۔فلاحت زراعت کو جانتے ہو۔تزکیہ نفس میں بھی فلاحت ہے۔مجاہدہ انسانی نفس کو اس کی خرابیوں اور سختیوں سے صاف کر کے اس قابل بنادیتا ہے کہ اس میں ایمان صحیحہ کی تخم ریزی کی جاوے۔پھر وہ شجر ایمان بارور ہونے کے لائق بن