تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 280

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۰ سورة الشمس عمل سے بھی کر کے دکھاؤ۔ابھی تو تم لوگ مخلوق کے حقوق کو بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے۔بہت سے ایسے ہیں جو آپس میں فساد اور دشمنی رکھتے ہیں اور اپنے سے کمزور اور غریب شخصوں کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں اور بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور ایک دوسرے کی غنیمتیں کرتے اور اپنے دلوں میں بغض اور کینہ رکھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اس وقت کہہ سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا کیونکہ جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہو گا اس وقت تک خدا تعالیٰ سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا گوان دونوں قسم کے حقوقوں میں بڑا حق خدا تعالی کا ہے مگر اس کی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے۔جو شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا کے حقوق بھی ادا نہیں کر سکتا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۵ ، والحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۲) اس آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نیکی اور خوبی کا مدار ہی دونوں پہلوؤں پر ہے جس کو ایک ہی قوت دی گئی ہے اور دوسری قوت ہی اس کو عطا نہیں ہوئی۔وہ تو ایک نقش ہے جو مٹ نہیں سکتا۔جو شخص ملک اور شیطان کا انکار کرتا ہے وہ تو گویا بدیہات اور امور محسوسہ مشہورہ کا انکاری ہے۔ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ لوگ نیکی بھی کرتے ہیں اور ارتکاب جرائم بھی دنیا میں ہوتا ہے اور دونوں قو تیں دنیا میں برابرا پنا کام کر رہی ہیں اور ان کا تو کوئی فرد بشر بھی انکار نہیں کر سکتا۔کون ہے جو ان دونوں کا احساس اور اثر اپنے اندر نہیں پاتا۔یہاں کوئی فلسفہ اور منطق پیش نہیں جاتی جبکہ دونوں قو تیں موجود ہیں اور اپنی اپنی جگہ اپنا اپنا کام کر رہی ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲ ؍جون ۱۹۰۸ صفحه ۸) جب انسان محض اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے جذبات کو روک لیتا ہے تو اس کا نتیجہ دین و دنیا میں کامیابی اور عزت ہے۔فلاح دو قسم کی ہے۔تزکیہ نفس حسب ہدایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرنے سے آخرت میں بھی نجات ملتی ہے اور دنیا میں بھی آرام ہوتا ہے۔گناہ خود ایک دکھ ہے۔وہ بیمار ہیں جو گناہ میں لذت پاتے ہیں۔بدی کا نتیجہ بھی اچھا نہیں نکلتا۔بعض شرابیوں کو میں نے دیکھا ہے کہ انہیں نزول الماء ہو گیا۔مفلوج ہو گئے۔رعشہ ہو گیا، سکتہ سے مر گئے۔خدا تعالیٰ جو ایسی بدیوں سے روکتا ہے تو لوگوں کے بھلے کے لئے جیسے ڈاکٹر اگر کسی بیمار کو پر ہیز بتاتا ہے تو اس میں بیمار کا فائدہ ہے نہ کہ ڈاکٹر کا۔لپس فلاح جسمانی و روحانی پانی ہے تم ان تمام آفات و منہیات سے پر ہیز کر و نفس کو بے قید نہ کرو کہ تم پر