تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 3
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة التغابن بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة التغابن بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِنْدَةً أَجْرٌ عَظِيمٌ ۔ علم اور حکمت کی مانند کوئی مال نہیں۔ یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیشگوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آکر اس مال کو اس قدر تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔ یہ نہیں کہ مسیح درم و دینار کو جو مصداق آیت إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ہے جمع کرے گا اور دانستہ ہر ایک کو مال کثیر دے کر فتنہ میں ڈال دے گا مسیح کی پہلی فطرت کو بھی ایسے مال سے مناسبت نہیں ۔ وہ خود انجیل میں بیان کر چکا ہے کہ مومن کا مال درم و دینار نہیں بلکہ جواہر حقائق و معارف اُس کا مال ہیں۔ یہی مال انبیا ء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اسی کو تقسیم کرتے ہیں۔ اسی مال کی طرف اشارہ ہے کہ إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ هُوَ الْمُعْطِي (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۵) اموالکم میں عورتیں داخل ہیں ۔ عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے، اس لئے اس کا نام بھی پردہ ہی میں رکھا ہے اور اس لئے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے۔ مال کا لفظ مائل سے لیا گیا ہے۔ یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے۔ عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے، اس لئے اس کو مال میں داخل فرمایا ہے۔ مال کا لفظ اس لئے رکھا تا کہ عام محبوبات پر حاوی نہ ہو ورنہ اگر صرف نِساء کا لفظ ہوتا ۔ تو اولاد اور عورت دو چیزیں قرار دی جائیں ۔ اور اگر محبوبات کی تفصیل کی جاتی تو پھر صرف دس جزو میں