تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 268

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة الشمس اسوج کبھی کا تک۔ غرض یہ سب سورج کے ہی نام ہیں اور نفس انسان بھی باعتبار مختلف تعینات اور مختلف اوقات ومقامات و حالات مختلف ناموں سے موسوم ہو جاتا ہے کبھی نفس زکیہ کہلاتا ہے اور کبھی اتارہ کبھی تو امہ اور کبھی مطمئنہ ۔ غرض اس کے بھی اتنے ہی نام ہیں جس قدر سورج کے مگر بخوف طول اسی قدر بیان کرنا کافی سمجھا گیا۔ توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۷۷، ۷۸ حاشیہ ) قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور قسم ہے چاند کی جب پیروی کرے سورج کی یعنی سورج سے نور حاصل کرے اور پھر سورج کی طرح اس نور کو دوسروں تک پہنچاوے اور قسم ہے دن کی جب سورج کی صفائی دکھاوے اور راہوں کو نمایاں کرے اور قسم ہے رات کی جب اندھیرا کرے اور اپنے پردہ تاریکی میں سب کو لے لے اور قسم ہے آسمان کی اور اس علت غائی کی جو آسمان کی اس بنا کا موجب ہوئی اور قسم ہے زمین کی اور اس علت غائی کی جو زمین کے اس قسم کے فرش کا موجب ہوئی اور قسم ہے نفس کی اور نفس کے اس کمال کی جس نے ان سب چیزوں کے ساتھ اس کو برابر کر دیا۔ یعنی وہ کمالات جو متفرق طور پر ان چیزوں میں پائے جاتے ہیں کامل انسان کا نفس ان سب کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے اور جیسے یہ تمام چیزیں علیحدہ علیحدہ نوع انسان کی خدمت کر رہی ہیں ۔ کامل انسان ان تمام خدمات کو اکیلا بجالاتا ہے۔ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں ۔ اور پھر فرماتا ہے کہ وہ شخص نجات پا گیا اور موت سے بچ گیا جس نے اس طرح پر نفس کو پاک کیا یعنی سورج اور چاند اور زمین وغیرہ کی طرح خدا میں محو ہو کر خلق اللہ کا خادم بنا۔ یادر ہے کہ حیات سے مراد حیات جاودانی ہے جو آئندہ کامل انسان کو حاصل ہوگی ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عملی شریعت کا پھل آئندہ زندگی میں حیات جاودانی ہے جو خدا کے دیدار کی غذا سے ہمیشہ قائم رہے گی اور پھر فرمایا کہ وہ شخص ہلاک ہو گیا اور زندگی سے نا امید ہو گیا جس نے اپنے نفس کو خاک میں ملا دیا اور جن کمالات کی اس کو استعداد میں دی گئی تھیں ان کمالات کو حاصل نہ کیا اور گندی زندگی بسر کر کے واپس گیا۔ اور پھر مثال کے طور پر فرمایا کہ ثمود کا قصہ اس بدبخت کے قصہ سے مشابہ ہے۔ انہوں نے اس اونٹنی کو زخمی کیا جو خدا کی اونٹنی کہلاتی تھی اور اپنے چشمہ سے پانی پینے سے اس کو روکا۔ سو اس شخص نے در حقیقت خدا کی اونٹنی کو زخمی کیا اور اس کو اس چشمہ سے محروم رکھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس خدا کی اونٹنی ہے جس پر وہ سوار ہوتا ہے یعنی انسان کا دل الہی تجلیات کی جگہ ہے اور اس اونٹنی کا پانی خدا کی محبت اور معرفت ہے جس سے وہ جیتی ہے اور پھر فرمایا کہ ثمود نے جب اونٹنی کو زخمی کیا اور اس کو اس کے پانی سے روکا تو ان پر