تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 258
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۸ دوسرے کے عیب کو دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔سورة البلد البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۸ / جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) اس شکایت پر کہ جماعت میں طاعون سے کوئی مرجاوے تو جنازہ اُٹھانے والا کوئی نہیں ملتا فرمایا ) یا درکھو تم میں اس وقت دو اخوتیں جمع ہو چکی ہیں ایک تو اسلامی اخوت اور دوسری اس سلسلہ کی اخوت ہے۔پھر ان دو اخوتوں کے ہوتے ہوئے گریز اور سرد مہری ہو تو یہ سخت قابل اعتراض امر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسے مسافر اپنے گھروں میں ہوتے تو وہ جو خارج از مذہب سمجھتے ہیں اور کافر کہتے ہیں ان میں بھی اس قسم کی سرد مہری نہ ہوتی۔لیکن یہ سرد مہری کیوں ہوتی ہے۔دو باتوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا افراط اور تفریط کا۔اگر افراط اور تفریط کو چھوڑ کر اعتدال سے کام لیا جاوے تو ایسی شکایت پیدا نہ ہو جبکہ تواصَوْا بِالْحَقِّ۔وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ کا حکم ہے تو پھر ایسے مردوں سے گریز کیوں کیا جاوے ؟ اگر کسی کے مکان کو آگ لگ جاوے اور وہ پکار فریاد کرے تو جیسے یہ گناہ ہے کہ محض اس خیال سے کہ میں جل نہ جاؤں اس مکان کو اور اس میں رہنے والوں کو جلنے دے اور جا کر آگ بجھانے میں مدد نہ دے ویسے ہی یہ بھی معصیت ہے کہ ایسی بے احتیاطی سے اس میں کود پڑے کہ خود جل جاوے۔ایسے موقع پر احتیاط مناسب کے ساتھ ضروری ہے کہ آگ بجھانے میں اس کی مدد کرے۔پس اسی طریق پر یہاں بھی سلوک ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ نے جا بجرم کی تعلیم دی ہے۔یہی اخوت اسلامی کا منشاء ہے۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ تمام مسلمان مومن آپس میں بھائی ہیں۔ایسی صورت میں کہ تم میں اسلامی اخوت قائم ہو اور پھر اس سلسلہ میں ہونے کی وجہ سے دوسری اخوت بھی ساتھ ہو یہ بڑی غلطی ہوگی کہ کوئی شخص مصیبت میں گرفتار ہو اور قضاء و قدر سے اسے ماتم پیش آجاوے تو دوسرا تجہیز و تکفین میں بھی اس کا شریک نہ ہو۔ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جنگ میں شہید ہوتے یا مجروح ہو جاتے تو میں یقین نہیں رکھتا کہ صحابہ انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہوں یا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر راضی ہو جاتے کہ وہ ان کو چھوڑ کر چلے جاویں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسی وارداتوں کے وقت ہمدردی بھی ہوسکتی ہے اور احتیاط مناسب بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔اول تو کتاب اللہ سے یہ مسئلہ ملتا ہی نہیں کہ کوئی مرض لازمی طور پر دوسرے کو لگ بھی جاتی ہے۔ہاں جس قدر تجارب سے معلوم ہوتا ہے اس کے لئے بھی نص قرآنی سے احتیاط مناسب کا پتہ لگتا ہے جہاں ایسا مرکز وہا کا ہو کہ وہ شدت سے