تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 256

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ سورة الفجر ہو ہی نہیں سکتا اور ظاہر ہے کہ جس کیفیت سے کوئی شے کسی حالت میں باہر نہ ہو سکے وہ کیفیت اس کی حقیقت اور ماہیت ہوتی ہے۔پس چونکہ از روئے بیان واضح قرآن شریف کے انسان کے نفس کے لئے عبودیت ایسی لازمی چیز ہے کہ نہ نبی بن کر اور نہ رسول بن کر اور نہ صدیق بن کر اور نہ شہید بن کر اور نہ اس جہان میں اور نہ اس جہان میں الگ ہو سکے۔جو مہتر اور بہتر انبیاء تھے انہوں نے عبدہ و رسولہ ہونا اپنا فخر سمجھا۔تو اس سے ثابت ہے کہ انسان کی اصل حقیقت و ماہیت عبودیت ہی ہے الوہیت نہیں اور اگر کوئی الوہیت کا مدعی ہے تو بمقابلہ اس محکم اور بین آیت کے کہ جو فادخلی فی عبدِئی ہے کوئی دوسری آیت ایسی پیش کرے کہ جس کا مفہوم فَادْخُلِي في ذاتي ہو اور خود قرآن شریف جابجا اپنے نزول کی علت غائی بھی یہی ٹھہراتا ہے کہ تا عبودیت پر لوگوں کو قائم کرے اور خدا نے اپنی کتاب عزیز میں ان لوگوں پر لعنت کی ہے جنہوں نے مسیح اور بعض دوسرے نبیوں کو خدا سمجھا تھا۔(مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۹۱،۵۹۰) اس بات کو روحانی لوگ جانتے ہیں کہ موت کے بعد جسمانی قرب کچھ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی قرب رکھتا ہے اس کی روح آپ کی روح سے نزدیک کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي - (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۲۶)