تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 244

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة الفجر شہیدوں کے لئے مخصوص کرنا ایک ظلم ہے بلکہ ایک کفر ہے۔کیا کوئی سچا مومن یہ گستاخی کا کلمہ زبان پر لاسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ابھی تک بہشت سے باہر ہیں جن کے روضہ کے نیچے بہشت ہے مگر وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ذریعہ سے ایمان اور تقویٰ کا مرتبہ حاصل کیا وہ شہید ہونے کی وجہ سے بہشت میں داخل ہیں اور بہشتی میوے کھا رہے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو وقف کر دیا وہ شہید ہو چکا لپس اس صورت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول الشہداء ہیں۔سو جب کہ یہ ثابت ہے تو ہم بھی کہتے ہیں کہ مسیح بھی مع جسم آسمان پر اٹھایا گیا مگر اس جسم کے ساتھ جو اس عصری جسم سے الگ ہے) اور پھر خدا تعالیٰ کے بندوں میں داخل ہوا اور بہشت میں داخل ہوا۔اس صورت میں ہماری اور ہمارے مخالفوں کی نزاع صرف لفظی نزاع نکلی۔( براہینِ احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۴ تا ۳۹۰) ہم اس بات سے منکر نہیں ہو سکتے کہ بعد موت حضرت عیسی کو جلالی جسم ملا جو خا کی جسم نہیں ہے کیونکہ وہ ہر ایک مومن راستباز کو بعد موت ملتا ہے جیسا کہ آیت وَادْخُلی جنتی اس پر شاہد ہے کیونکہ مجرد روح بہشت میں داخل ہونے کے لائق نہیں۔پس اس میں حضرت عیسی کی کوئی خصوصیت نہیں۔( براتب احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۹ حاشیه ) ایسا سمجھنا غلطی ہے کہ پہلے انبیاء علیہم السلام جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں ان کی صرف آسمان پر روحیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ نورانی اور جلالی اجسام ہیں جن اجسام کے ساتھ وہ مرنے کے بعد دنیا میں سے اُٹھائے گئے جیسا کہ آیت وَادْخُلِي جَنَّتی اس بات پر نص صریح ہے کیونکہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے جسم کی ضرورت ہے اور قرآن شریف جابجا تصریح سے فرماتا ہے کہ جو لوگ بہشت میں داخل ہوں گے ان کے ساتھ جسم بھی ہوں گے کوئی مجرد روح بہشت میں داخل نہیں ہوگی۔پس آیت وَ ادْخُلِي جَنَّتِی اس بات کے لئے نص صریح ہے کہ ہر ایک راستباز جو مرنے کے بعد بہشت میں داخل ہوتا ہے اس کو مرنے کے بعد ضرور ایک جسم ملتا ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۹) اس آیت ( بَلْ تَفَعَهُ اللهُ الیه - ناقل ) کے مشابہ دوسری آیت بھی قرآن شریف میں موجود ہے اور وہ یہ کہ يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِى إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّة پس کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اے نفس مطمئنہ مع جسم عنصری دوسرے آسمان پر چلا جا ؟ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۸) نور اور روشنی سے بہرہ ور انسان اعلیٰ درجہ کی راحت اور عزت پاتا ہے چنانچہ خدائے تعالیٰ نے خود فرمایا