تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 241

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۱ سورة الفجر النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلی جنتی یعنی اے وہ نفس جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف چلا آ۔وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت کے اندر آ۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۳۰،۳۲۹) تمام قرآن میں یہی محاورہ ہے کہ خدا کی طرف اٹھائے جانے یا رجوع کرنے سے موت مراد ہوتی ہے جیسا کہ آیت ارْجِعِي إِلى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً سے بھی موت ہی مراد ہے۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۵) یہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مومن مرکز خدا کی طرف جاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں جیسا کہ آیت ارجعی الی رنكِ اس کی شاہد ہے اور کا فرنیچے کی طرف جو شیطان کی طرف ہے جاتا ہے جیسا کہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : ۴۱) اس کی گواہ ہے۔خدا کی طرف جانے کا نام رفع ہے اور شیطان کی طرف جانے کا نام لعنت ہے۔ان دونوں لفظوں میں تقابل اضداد ہے۔نادان لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر رفع کے معنی مع جسم اٹھانا ہے تو اس کے مقابل کا لفظ کیا ہوا جیسا کہ رفع روحانی کے مقابل پر لعنت ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۰۹،۱۰۸) یہود حضرت عیسی علیہ السلام کے اس رفع سے منکر تھے جو ہر یک مؤمن کے لئے مدار نجات ہے کیونکہ مسلمانوں کی طرح ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ جان نکلنے کے بعد ہر یک مومن کی روح کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں مگر کافر پر آسمان کے دروازے بند ہوتے ہیں اس لئے اس کی روح نیچے شیطان کی طرف پھینک دی جاتی ہے جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں بھی شیطان کی طرف ہی جاتا تھا لیکن مومن اپنی زندگی میں اوپر کی طرف جاتا ہے اس لئے مرنے کے بعد بھی خدا کی طرف اس کا رفع ہوتا ہے اور ارجعی الی ربک کی آواز آتی ہے۔(تحفہ گولڑ و یه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۱۳ حاشیه ) تمام قرآن شریف میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی کی نسبت فرمایا جاتا ہے کہ خدا کی طرف وہ گیا یا خدا کی طرف اس کا رفع ہوا تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ روحانی طور پر اس کا رفع ہوا جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَآيَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ الے کہ اے نفس مطمعنہ اپنے