تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 238

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۸ سورة الفجر خدائے تعالی کی قہری تجلی جہنم کو بھی بعد از حساب اور الزام صریح کے نئے رنگ میں دکھلا کر گویا جہنمی لوگوں کو نئے سرے جہنم میں داخل کرے گی۔روحانی طور پر بہشتیوں کا بلا توقف بعد موت کے بہشت میں داخل ہو جانا اور دوزخیوں کا دوزخ میں گرایا جانا بتواتر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۷۹،۲۷۸) مومن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہو رہا ہے قیل ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يَلَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ ( يس : ۲۸،۲۷) اور دوسری یہ آیت فَادْخُلِي فِي عَبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۱) اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔پھر اس کے بعد میرے اُن بندوں میں داخل ہو جا جو دنیا کو چھوڑ گئے ہیں اور میرے بہشت کے اندر آ۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہوسکتا۔لیکن معراج کی حدیث جس کو بخاری نے بھی مبسوط طور پر اپنی بیج میں لکھا ہے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے لہذا حسب دلالت صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا ضروری طور پر ماننا پڑا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۳) جبکہ انہوں نے فوت شدہ لوگوں کی طرح عالم ثانی کی زندگی کے تمام لوازم اختیار کر لئے جو فوت شدہ لوگوں کی علامات میں سے ہیں اور نہ صرف اختیار ہی کئے بلکہ اس جماعت میں جاملے اور فرمان ارجعی الی رَيْكِ کا قبول کر کے فَادْخُلی فی عبدی کا مصداق ہو گئے۔تو اب بھی اگر اُن کو فوت شدہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جاوے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۰) طرفہ تر یہ کہ قرآن کریم میں آسمان کی طرف اٹھا لینے کا کہیں ذکر بھی نہیں بلکہ وفات دینے کے بعد اپنی طرف اٹھا لینے کا ذکر ہے جیسا کہ عام طور پر تمام فوت شدہ راستبازوں کے لئے ارجعي إلى رتك کا خطاب ہے سو وہی رفع الی اللہ اور رجوع الی اللہ جس کے لئے پہلے موت شرط ہے حضرت مسیح کے بھی نصیب ہو گیا کہاں یہ رفع الی اللہ اور کہاں یہ رفع الی السماء آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۱۷) وَمَا مَعْلَى قَوْلُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ إِلَّا اللہ تعالیٰ کے قول ارجعی الی رتك کا وہی مفہوم الْمَعْلَى الَّذِي يُفْهَمُ مِنْ قَوْلِ رَافِعُكَ إِلَى ہے جو رَافِعُكَ اِلَى کا ہے کیونکہ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ہونے