تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 226
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة الطارق ماده نشو ونما نہیں پاسکتا اور وہ فطرت بار آور نہیں ہوسکتی جب تک آسمان سے مینہ نہ برسے باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روید و در شوره بوم خس اس غرض کے لئے کہ عمدہ عمدہ پھل اور پھول پیدا ہوں عمدہ زمین اور اس کے لئے بارش کی ضرورت ہے جب تک یہ بات نہ ہو کچھ نہیں ہو سکتا۔اب اس نظارہ فطرت کو اللہ تعالیٰ ضرورت وحی کے لئے پیش کرتا ہے اور توجہ دلاتا ہے کہ دیکھو جب مینہ نہ برسے تو قحط کا اندیشہ ہوتا ہے یہاں تک کہ زمینی پانی جو کنوؤں اور چشموں میں ہوتا ہے وہ بھی کم ہونے لگتا ہے۔پھر جبکہ دنیوی اور جسمانی ضرورتوں کے لئے آسمانی بارش کی ضرورت ہے تو کیا روحانی اور ابدی ضرورتوں کے لئے روحانی بارش کی ضرورت نہیں ؟ اور وہ وحی الہی ہے۔جیسے مینہ کے نہ برسنے سے قحط پڑتا اور کنوئیں اور چشمے خشک ہو جاتے ہیں اسی طرح پر اگر انبیاء ورسل دنیا میں نہ آئیں تو فلسفیوں کا وجود بھی نہ ہو کیونکہ قومی عقلیہ کا نشو و نما وحی الہی ہی سے ہوتا ہے اور زمینی عقلیں اس سے پرورش پاتی ہیں۔پس اس آیت وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْع میں وحی الہی کی ضرورت پر عقلی اور فطرتی دلائل پیش کئے ہیں۔جو شخص اس امر کو سمجھ لے گا وہ بول اٹھے گا کہ بیشک وحی الہی کی ضرورت ہے اور یہ وہ طریق ہے جو آدم سے چلا آتا ہے اور ہر شخص نے اپنی استعداد اور فطرت کے موافق اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ہاں جو جاہل اور ناقص تھے یا جن میں تکبر اور خود سری تھی وہ محروم رہ گئے اور انہوں نے کچھ بھی حصہ نہ لیا۔یہی اصل اور کچی بات ہے اور تم یقینا یاد رکھو کہ آسمانی بارش کی سخت ضرورت ہے اس لئے کہ عملی قوت بجز اس بارش کے پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۶ صفحه ۵،۴) ہم نظام جسمانی میں دیکھتے ہیں کہ جسمانی کاشت کار باوجود ہر قسم کی باقاعدہ محنت ومشقت کے بھی پھر با ہر آسمانی پانی کا محتاج ہے۔اور اگر اس کی محنتوں اور کوششوں کے ساتھ آسمانی پانی اس کی فصل پر نہ پڑے تو فصل تباہ ، محنت برباد ہو جاتی ہے۔پس یہی حال روحانی رنگ میں ہے۔انسان کو خشک ایمان کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ روحانی بارش نازل ہو کر بڑے زور کے نشانات سے اس کے اندرونی گند دھو کر اس کو صاف نہ کرے۔چنانچہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرّجع وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْع - یعنی قسم ہے آسمان کی جس سے بارش نازل ہوتی ہے اور قسم ہے زمین کی جس سے شگوفہ نکلتا ہے۔بعض لوگ اپنی نادانی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ خدا کو قسم کی کیا ضرورت تھی۔مگر ایسے لوگ