تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 227

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۷ سورة الطارق آخر کار اپنی جلد بازی کی وجہ سے ندامت اٹھاتے ہیں۔قسم کا مفہوم اصل میں قائم مقام ہوتا ہے شہادت کے۔ہم دنیوی گورنمنٹ میں بھی دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات مقدمات کے فیصلوں کا حصر ہی قسم پر رکھا جاتا ہے پس اسی طرح سے خدا تعالیٰ بھی بارش آسمانی کی قسم کھا کر نظامِ جسمانی کی طرح نظامِ روحانی میں اس بات کو بطور ایک شہادت کے پیش کرتا ہے کہ جس طرح سے زمین کی سرسبزی اور کھیتوں کا ہرا بھرا ہونا آسمانی بارش پر موقوف ہے اور اگر آسمانی بارش نہ ہو تو زمین پر کوئی سبزی نہیں رہ سکتی اور زمین مردہ ہو جاتی ہے بلکہ کنوؤں کا پانی بھی خشک ہو جاتا ہے اور دنیا زیر و زبر ہوکر ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے اور لوگ بھوکوں پیاسوں مرتے ہیں۔قحط کی وجہ سے انسان وحیوان اور پھر چرند و پرند اور درند وغیرہ پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے بعینہ اسی طرح سے ایک روحانی سلسلہ بھی ہے۔یا درکھو کہ خشک ایمان بجز آسمانی بارش کے جو مکالمہ مخاطبہ کے رنگ میں نازل ہوتی ہے ہرگز ہرگز باعث نجات یا حقیقی راحت کا نہیں ہو سکتا۔جو لوگ روحانی بارش کے بغیر اور کسی مامورمن اللہ کے بغیر نجات پاسکتے ہیں اور ان کو کسی مز کی اور مامور من اللہ کی ضرورت نہیں سب کچھ ان کے پاس موجود ہے ان کو چاہیے کہ پانی بھی اپنے گھروں میں ہی پیدا کر لیا کریں ان کو آسمانی بارش کی کیا احتیاج۔آنکھوں کے سامنے موجود ہے کہ جسمانی چیزوں کا مدار کن چیزوں پر ہے۔پس اس سے سمجھ لو کہ بعینہ اسی کے مطابق روحانی زندگی کے واسطے بھی لازمی اور لا بد اور ضروری ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۶) إنه لَقَولُ فَصل وَمَا هُوَ بِالهَولِ یعنی علم معاد میں جس قدر تنازعات اُنھیں سب کا فیصلہ یہ کتاب کرتی (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۲۴ حاشیہ نمبر ۱۱) ہے بے سود اور بیکار نہیں ہے۔یہ کلام حکم ہے اور قول فصل ہے۔قرآن قول فصل ہے جو ہر ایک امر میں سچا فیصلہ دیتا ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۲) (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۷،۸۶) یا درکھنا چاہیے کہ قرآن شریف نے پہلی کتابوں اور نبیوں پر احسان کیا ہے جو ان کی تعلیموں کو جو قصہ کے رنگ میں تھیں علمی رنگ دے دیا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی شخص ان قصوں اور کہانیوں سے نجات نہیں پاسکتا جب تک وہ قرآن شریف کو نہ پڑھے کیونکہ قرآن شریف ہی کہ یہ شان ہے کہ وہ إِنَّهُ لَقَولُ فَصِّلُ وَمَا الحکم جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۳، ۴) هُوَ بِالْهَزْلِ ہے۔