تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 221
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة الطارق کی حقیقت سے آشنا ہو کر ایک سچی سکینت اور اطمینان جو نجات کا اصل مقصد اور منشاء ہے حاصل کرے۔ابھی جو مثال میں نے قرآن شریف سے قسم کے متعلق دی ہے کہ وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ یعنی قسم ہے آسمان کی جس میں اللہ تعالیٰ نے رجع کو رکھا ہے۔سماء کا لفظ فضا اور جو اور بارش اور بلندی کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔رجع بار بار وقت پر آنے والی چیز کو کہتے ہیں۔بارش برسات میں بار بار آتی ہے اس لئے اس کا نام بھی رجمع ہے۔اسی طرح پر آسمانی بارش بھی اپنے وقتوں پر آتی ہے۔وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ اور قسم ہے زمین کی کہ وہ ان وقتوں میں پھوٹ نکلتی ہے اور سبزہ نکالتی ہے۔بارش کی جڑھ زمین ہے۔زمین کا پانی جو بخارات بن کر او پر اُڑ جاتا ہے وہ کرہ زمہریر میں پہنچ کر بارش بن کر واپس آتا ہے اور اس صورت میں چونکہ وہ آسمان سے آتا ہے اس لئے آسمانی کہلاتا ہے۔پھر بارش کی ضرورت کے لئے ایک اور وقت خاص ہے۔جب مزار عین کو ضرورت ہوتی ہے۔اگر بیائی کے بعد پڑے تو کچھ بھی نہ رہے اور پھر بعض اوقات نشو و نما کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔غرض بارش اور مینہ کی ضرورت اور اس کے مفاد اور اس کے آسمان سے آنے کا نظارہ بالکل بدیہی ہے اور ایک ادنیٰ درجہ کی عقل رکھنے والا گنوار دہقان بھی جانتا ہے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ اگر آسمانی بارش نہ ہو تو زمینی پانی بھی خشک ہونے لگتے ہیں۔چنانچہ امساک باراں کے دنوں میں بہت سے کنوئیں خشک ہو جاتے ہیں اور اکثروں میں پانی بہت ہی کم رہ جاتا ہے لیکن جب آسمان سے بارش آتی ہے تو زمینی پانیوں میں بھی ایک جوش اور تموج پیدا ہونے لگتا ہے۔میرا مطلب اس مقام پر اس مثال کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو ایک اور امر کے لئے بطور شاہد قرار دیا ہے کیونکہ ان نظاروں سے تو ایک معمولی زمیندار بھی واقف ہی ہے اور وہ امر جوان کے ذریعہ ثابت کیا ہے وہ یہ ہے۔اِنَّكَ لَقَولُ فَضْلُ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ۔بیشک یہ خدا کا کلام ہے اور قول فصل ہے اور وہ عین وقت پر ضرورت حقہ کے ساتھ اور حق و حکمت کے ساتھ آیا ہے بیہودہ طور پر نہیں آیا۔اب دیکھ لو کہ قرآن شریف جس وقت نازل ہوا ہے کیا اس وقت نظام روحانی یہ نہیں چاہتا تھا کہ خدا کا کلام نازل ہو اور کوئی مرد آسمانی آوے جو اس گمشدہ متاع کو واپس دلائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہء بعثت کی تاریخ پڑھو تو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کی کیا حالت تھی خدا تعالیٰ کی پرستش دنیا سے اٹھ گئی تھی اور توحید کا نقشِ پامٹ چکا تھا باطل پرستی اور معبودان باطلہ کی پرستش نے اللہ جل شانہ کی جگہ لے رکھی تھی۔دنیا پر جہالت اور ظلمت کا ایک خوفناک پردہ چھایا ہوا تھا۔دنیا کے تختہ پر کوئی ملک کوئی قطعہ کوئی سرزمین ایسی نہ رہ