تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 208

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ سورة الطارق فرماتا ہے کہ بجز اس کے کسی دوسرے کی قسم نہ کھائی جائے نہ انسان نہ آسمان کی نہ زمین نہ کسی ستارہ کی نہ کسی اور کی اور پھر غیر کی قسم کھانے میں خاص ستاروں اور آسمان کی قسم کی خدا تعالیٰ کو اس جگہ کیا ضرورت آپڑی سو در حقیقت یہ دو اعتراض ہیں جو ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور بوجہ ان کے باہمی تعلقات کے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ان کے جوابات ایک ہی جگہ بیان کئے جائیں۔سو اول قسم کے بارے میں خوب یادرکھنا چاہیئے کہ اللہ جل شانہ کی قسموں کا انسانوں کی قسموں پر قیاس کر لینا قیاس مع الفارق ہے خدا تعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رویت کا قائم مقام ٹھہر اوے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھو تو قسم کا اصل مفہوم شہادت ہی ہے۔جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے تا اُس سے وہ فائدہ اٹھا دے جو ایک شاہد رویت کی شہادت سے اٹھانا چاہیئے لیکن یہ تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالیٰ کے اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزا دہی یا کسی اور امر پر قادر ہے صریح کلمہ کفر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں انسان کے لیے یہی تعلیم ہے کہ غیر اللہ کی ہرگز فتسم نہ کھاوے۔اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی قسموں کا انسان کی قسموں کے ساتھ قیاس درست نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آتی کہ جو انسان کو قسم کے وقت پیش آتی ہے بلکہ اُس کا قسم کھانا ایک اور رنگ کا ہے جو اُس کی شان کے لائق اور اُس کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے اور غرض اُس سے یہ ہے کہ تا صحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل کرنے کے لئے بطور شاہد کے پیش کرے اور چونکہ اس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جیسا ایک قسم کھانے والا جب مثلاً خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ میرے اس واقعہ پر گواہ ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض گھلے گھلے افعال بعض چھپے ہوئے افعال پر گواہ ہیں اس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جا بجا قرآن کریم میں پیش کیا اور اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے غیر اللہ کی قسم کھائی۔کیونکہ وہ در حقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اُس کے افعال اُس کے غیر نہیں ہیں مثلاً اُس کا آسمان یا