تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 207

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۷ سورة الطارق ایک دھوکہ ہے کہ جو بوجہ غلط نہی نزول اور صعود کے معنوں کے دلوں میں متمکن ہو گیا ہے۔پوشیدہ نہ رہے کہ نزول کے یہ معنے ہرگز نہیں ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے اپنا مقام اور مقتز چھوڑ کر زمین پر نازل ہو جاتا ہے ایسے معنے تو صریح نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے مخالف ہیں چنانچہ فتح البیان میں ابن جریر سے بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ حدیث مروی ہے۔قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي السَّمَاءِ مَوْضِعُ قَدَمٍ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَ سَاجِدٌ أوْ قَائِمٌ وَ ذَالِكَ قَوْلُ الْمَلائِكَةِ وَ ما مِنَّا إِلَّا له مقام مَّعْلُومٌ - یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان پر ایک قدم کی بھی ایسی جگہ خالی نہیں جس میں کوئی فرشتہ ساجد یا قائم نہ ہو اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک شخص ایک مقام معلوم یعنی ثابت شدہ رکھتا ہے جس سے ایک قدم او پر یا نیچے نہیں آسکتا۔اب دیکھواس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ فرشتے اپنے مقامات کو نہیں چھوڑتے اور کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوتا کہ ایک قدم کی جگہ بھی آسمان پر خالی نظر آوے مگر افسوس کہ بطالوی صاحب اور دہلوی شیخ صاحب بھی اب تک اس زمانہ میں بھی کہ علوم حسیہ طبعیہ کا فروغ ہے یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ آسمان کا صرف باندازہ ایک قدم خالی رہنا کیا مشکل بات ہے بعض اوقات تو بڑے بڑے فرشتوں کے نزول سے ہزار ہا کوس تنک آسمان خالی ویران سنسان پڑا رہ جاتا ہے جس میں ایک فرشتہ بھی نہیں ہوتا کیونکہ جب چھ سو موتیوں کے پروں والا فرشتہ جس کا طول مشرق سے مغرب تک ہے یعنی جبرائیل زمین پر اپنا سارا وجود لے کر اتر آیا تو پھر سوچنا چاہئے کہ ایسے جسیم فرشتہ کے اُترنے سے ہزار ہا کوس تک آسمان خالی رہ جائے گا یا اس سے کم ہو گا شیخ الکل کہلانا اور احادیث نبویہ کو نہ سمجھنا جائے افسوس اور جائے شرم۔الغرض جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں یہ بات نہایت احتیاط سے اپنے حافظہ میں رکھ لینی چاہیئے کہ مقربوں کا روح القدس کی تاثیر سے علیحدہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ اُن کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیوں کر علیحدہ ہو سکتے ہیں۔اور جس علیحدگی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اس سے مراد صرف ایک قسم کی بجلی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصالح الہی اُس قسم کی تجلی میں کبھی دیر ہو گئی ہے اور اصطلاح قرآن کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی تجلی ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۷۶ تا ۹۱ حاشیہ ) از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ سورۃ والطارق میں خدا تعالیٰ نے غیر اللہ کی قسم کیوں کھائی حالانکہ آپ ہی