تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 202
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٠٢ سورة الطارق کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ انسان کی حفاظت کے لیے ہمیشہ اور ہر دم اس کے ساتھ رہتا ہے اور ایک دم بھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔کیا اس جگہ یہ خیال آ سکتا ہے کہ انسان کے ظاہر کی نگہبانی کے لیے تو دائی طور پر فرشتہ مقرر ہے لیکن اس کی باطن کی نگہبانی کے لیے کوئی فرشتہ دائمی طور پر مقرر نہیں بلکہ متعصب سے متعصب انسان سمجھ سکتا ہے کہ باطن کی حفاظت اور روح کی نگہبانی جسم کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ جسم کی آفت تو اسی جہان کا ایک دکھ ہے لیکن روح اور نفس کی آفت جہنم ابدی میں ڈالنے والی چیز ہے سوجس خدائے رحیم و کریم کو انسان کے اس جسم پر بھی رحم ہے جو آج ہے اور کل خاک ہو جائے گا اس کی نسبت کیوں کر گمان کر سکتے ہیں کہ اس کو انسان کی روح پر رحم نہیں۔پس اس نص قطعی اور یقینی سے ثابت ہے کہ روح القدس یا یوں کہو کہ اندرونی نگہبانی کا فرشتہ ہمیشہ نیک انسان کے ساتھ ایسا ہی رہتا ہے جیسا کہ اس کی بیرونی حفاظت کے لئے رہتا ہے۔اس آیت کے ہم مضمون قرآن کریم میں اور بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تربیت اور حفاظت ظاہری و باطنی کے لیے اور نیز اس کے اعمال کے لکھنے کے لیے ایسے فرشتے مقرر ہیں کہ جو دائمی طور پر انسانوں کے پاس رہتے ہیں چنانچہ منجملہ ان کے یہ آیات ہیں۔وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحفِظِينَ (الانفطار : 1) - وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً (الانفال : ۶۲ - لَهُ مُعَقِبتَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ آمر الله (الرعد : ۱۲ )۔ترجمہ ان آیات کا یہ ہے کہ تم پر حفاظت کرنے والے مقرر ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھیجتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کی ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں۔اس مقام میں صاحب معالم نے یہ حدیث لکھی ہے کہ ہر ایک بندہ کے لیے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔اور اس کی نیند اور بیداری میں شیاطین اور دوسری بلاؤں سے اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث کعب الاحبار سے بیان کی ہے اور ابن جریر اس آیت کی تائید میں یہ حدیث لکھتا ہے اِن مَعَكُمْ مَنْ لَّا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْخَلَاءِ وَ عِنْدَ الْجَمَاعِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَ اكْرِ مُوْهُمْ۔یعنی تمہارے ساتھ وہ فرشتے ہیں کہ بجز جماع اور پاخانہ کی حاجت کے تم سے جدا نہیں ہوتے۔سو تم ان سے شرم کرو اور ان کی تعظیم کرو اور اس جگہ عکرمہ سے یہ حدیث لکھی ہے کہ ملائکہ ہر یک شر سے بچانے کے لیے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور جب تقدیر مبرم نازل ہو تو الگ ہو جاتے ہیں۔اور پھر مجاہد سے نقل کیا ہے کہ کوئی ایسا انسان نہیں جس کی حفاظت کے لیے دائمی طور پر ایک فرشتہ مقرر نہ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶ ۷ تا ۸۰) ہو۔