تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 203

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الطارق ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کی جو رات کو آنے والا ہے اور تجھے کیا خبر ہے کہ رات کو آنے والی کیا چیز ہے؟ وہ ایک چمکتا ہوا ستارا ہے۔اور قسم اس بات کے لیے ہے کہ ایک بھی ایسا جی نہیں کہ جو اس پر نگہبان نہ ہو یعنی ہر ایک نفس پر نفوس مخلوقات میں سے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کی نگہبانی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو اس آیت کو کلی طور پر یعنی گن کے لفظ سے مقید کر کے بیان فرمایا ہے اس سے یہ بات بخوبی ثابت ہو گئی کہ ہر یک چیز جس پر نفس کا نام اطلاق پاسکتا ہے اس کی فرشتے حفاظت کرتے ہیں پس بموجب اس آیت کے نفوس کو اکب کی نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ کل ستارے کیا سورج کیا چاند کیا زحل کیا مشتری ملائک کی زیر حفاظت ہیں یعنی ہر ایک کے لیے سورج اور چاند وغیرہ میں ح سے ایک ایک فرشتہ مقرر ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے کاموں کو احسن طور پر چلاتا ہے۔اس جگہ کئی اعتراض پیدا ہوتے ہیں جن کا دفع کرنا ہمارے ذمہ ہے۔از انجملہ ایک یہ کہ جس حالت میں روح القدس صرف ان مقربوں کو ملتا ہے کہ جو بقا اور لقا کے مرتبہ تک پہنچتے ہیں تو پھر ہر ایک کا نگہبان کیوں کر ہوسکتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ روح القدس کا کامل طور پر نزول مقر بوں پر ہی ہوتا ہے مگر اس کی فی الجملہ تائید حسب مراتب محبت و اخلاص دوسروں کو بھی ہوتی ہے۔ہماری تقریر مندرجہ بالا کا صرف یہ مطلب ہے کہ روح القدس کی اعلیٰ تجلی کی یہ کیفیت ہے کہ جب بقا اور لقا کے مرتبہ پر محبت الہی انسان کی محبت پر نازل ہوتی ہے تو یہ اعلیٰ تجلی روح القدس کی ان دونوں محبتوں کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے جس کے مقابل پر دوسری تجلیات کا لعدم ہیں مگر یہ تو نہیں کہ دوسری تجلیات کا وجود ہی نہیں خدا تعالیٰ ایک ذرہ محبت خالصہ کو بھی ضائع نہیں کرتا۔انسان کی محبت پر اس کی محبت نازل ہوتی ہے اور اسی مقدار پر روح القدس کی چمک پیدا ہوتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک بندھا ہوا قانون ہے کہ ہر یک محبت کے اندازہ پر الہی محبت نزول کرتی رہتی ہے اور جب انسانی محبت کا ایک دریا بہ نکلتا ہے تو اس طرف سے بھی ایک دریا نازل ہوتا ہے اور جب و ہ دونوں دریا ملتے ہیں تو ایک عظیم الشان نور ان میں سے پیدا ہوتا ہے جو ہماری اصطلاح میں روح القدس سے موسوم ہے لیکن جیسے تم دیکھتے ہو کہ اگر ہیں سیر پانی میں ایک ماشہ مصری ڈال دی جائے تو کچھ بھی مصری کا ذائقہ معلوم نہیں ہو گا اور پانی پھیکے کا پھیکا ہی ہوگا۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مصری اس میں نہیں ڈالی گئی اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پانی میٹھا ہے۔یہی حال اس روح القدس کا ہے جو ناقص طور پر ناقص لوگوں پر اترتا ہے اس کے اترنے میں تو شک نہیں ہوسکتا کیونکہ ادنیٰ سے ادنی آدمی کو بھی نیکی کا خیال روح القدس سے پیدا ہوتا ہے۔کبھی فاسق اور فاجر