تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 191
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۱ سورة الانفطار تَفْجِيْرِهَا مُدَاوِمُوْنَ۔وَ أَحَاطُوْا عَلَى دَقَائِقِ انہوں نے تیر انہار کے علم کی بار یک باتوں پر بھی احاطہ عِلْمٍ تَفْجِيرِ الْانهَارِ وَ أَفَاضُوهَا عَلى كُلِ کر لیا ہوا ہے اور انہوں نے نہروں کو ہر غیر آباد وادی وَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ لِيَعْمُرُوا الْأَرْضَ وَيَدْفَعُوا میں جاری کر دیا ہے تا وہ زمین کو آباد کریں اور اس کے بَلَايَا الْقَعْطِ مِنْ اَهْلِهَا وَ كَذَالِكَ يَعْمَلُونَ رہنے والوں سے قحط کی بلاؤں کو دور کریں اور اس طرح لِيَنْتَفِعُوا مِنَ الْأَرْضِ حَقِّ الْاِنْتِفَاعِ فَهُمْ وہ یہ کام اس لئے کرتے ہیں تا وہ زمین سے پورا نفع حاصل کریں چنانچہ وہ نفع حاصل کر رہے ہیں مُنْتَفِعُونَ (ترجمه از مرتب) آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۷۰،۴۶۹) خدا نے اس آخری زمانہ کے بارہ میں جس میں تمام تو میں ایک ہی مذہب پر جمع کی جائیں گی صرف ایک ہی نشان بیان نہیں فرمایا بلکہ قرآن شریف میں اور بھی کئی نشان لکھتے ہیں منجملہ ان کے ایک یہ کہ اس زمانہ میں دریاؤں میں سے بہت سی نہریں نکلیں گی۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۸۳) اپنی تائید میں نشانات آسمانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ) (ساتواں ) نشان کثرت سے نہریں جاری کئے جانا جیسا کہ آیت وَ إِذَا الْبِحَارُ فُجْرَتْ سے ظاہر ہوتا ہے پس اس میں کیا شک ہے کہ اس زمانہ میں اس کثرت سے نہریں جاری ہوئی ہیں جن کی کثرت سے دریا خشک ہوئے جاتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۶) ایک اور پیشگوئی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت ہے اور وہ یہ ہے کہ وَ إِذَا الْبِحَارُ فُجْرَت یعنی آخری زمانہ میں دریاؤں میں سے بہت سی نہریں جاری کی جائیں گی چنانچہ یہ پیشگوئی بھی ہمارے زمانہ میں ظہور میں آگئی۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲۳) وَأَمَّا انْتِثَارُ الْكَوَاكِبِ فَهُوَ إِشَارَةٌ ستاروں کے گرنے سے علماء کے فتنوں اور ان میں سے إلى فِتَنِ الْعُلَمَاء وَ ذِهَابِ الْمُتَّقِينَ متقی لوگوں کے ختم ہو جانے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ تم مِنْهُمْ كَمَا أَنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّ أَثَارَ الْعِلْمِ دیکھتے ہو کہ علم کے آثار محو ہو گئے ہیں اور مٹ گئے ہیں اور قَدِ امْتَحَتْ وَ عَقَتْ وَ الَّذِينَ كَانُوا أُوتُوا جن لوگوں کو علم عطا کیا گیا تھا ان میں سے بعض تو مر گئے الْعِلْمَ فَبَعْضُهُمْ مَالُوْا وَ بَعْضُهُمْ عَممُوا ہیں اور بعض ان میں سے اندھے اور بہرے ہو گئے ہیں وَصَمُوا ثُمَّ تَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا وَ پھر اللہ تعالی ان پر رجوع برحمت ہوالیکن پھر وہ اندھے و،