تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 186
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶ سورة التكوير جائے گا اور چونکہ صحیح مسلم میں کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ اونٹنیوں کے بیکار ہونے کا مسیح موعود کا زمانہ ہے اس لئے قرآن شریف کی آیت وَ إِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ جو حديث يُتْرَكَ الْقِلاص کے ہم معنی ہے بدیہی طور پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعہ ریل جاری ہونے کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظہور میں آئے گا۔اسی لئے میں نے إذَا الْعِشَارُ عُظِلت کے یہی معنی کئے ہیں کہ وہ مسیح موعود کا زمانہ ہے کیونکہ حدیث نے اس آیت کی شرح کر دی ہے اور چونکہ ریل کے جاری ہونے پر ایک مدت گزر چکی ہے جو مسیح موعود کی علامت ہے اس لئے ایک مومن کو ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود ظاہر ہو چکا ہے اور جب کہ ایک واقعہ نے ممدوحہ بالا آیت اور حدیث کے معنے کھول دیئے ہیں تو اب ظاہر شدہ معنوں کو قبول نہ کرنا صریح الحادا اور بے ایمانی ہے۔سوچ کر دیکھو کہ جب مکہ اور مدینہ میں اونٹ چھوڑ کر ریل کی سواری شروع ہو جائے گی تو کیا وہ روز اس آیت اور حدیث کا مصداق نہ ہو گا ؟ ضرور ہوگا اور تمام دل اس دن بول اٹھیں گے کہ آج وہ پیشگوئی مکہ اور مدینہ کی راہ میں کھلے کھلے طور پر پوری ہوگئی۔ہائے افسوس ان نام کے مسلمانوں پر کہ جو نہیں چاہتے کہ (میرے بغض کی وجہ سے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشگوئی پوری ہو۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۱، ۸۲ حاشیه ) اس زمانہ میں اونٹنیاں بریکار ہو جاویں گی۔اعلیٰ درجہ کی سواری اور بار برداری جن سے ایام سابقہ میں ہوا کرتی تھی۔یعنی اس زمانہ میں سواری کا انتظام کوئی ایسا پیدا ہوگا کہ یہ سواریاں بیکار ہو جاویں گی۔اس سے ریل کا زمانہ مراد تھا۔وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ ان آیات کو تعلق قیامت سے ہے وہ نہیں سوچتے کہ قیامت میں اونٹنیاں حمل دار کیسے رہ سکتی ہیں کیونکہ عشار سے مراد حمل دار اونٹنیاں ہیں۔پھر لکھا ہے کہ اس زمانہ میں چاروں طرف نہریں پھیل جاویں گی اور کتا بیں کثرت سے اشاعت پاویں گی۔غرض کہ یہ سب نشان اسی زمانہ کے متعلق تھے۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۶۰) وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَت بھی میرے ہی لئے ہے۔۔۔پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دیئے ہیں۔چنانچہ مطبع کے سامان ، کاغذ کی کثرت ، ڈاکخانوں ، تار اور ریل ، اور دُخانی جہازوں کے ذریعے کل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور پھر نت نئی ایجاد یں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہے ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہورہے ہیں۔اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے۔اخباروں اور رسالوں کا اجراء۔غرض اس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲،۱)