تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 176
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 127 سورة التكوير اگر قرآن شریف خدا کا کلام نہ ہوتا تو انسانی طاقت میں یہ بات ہر گز داخل نہ تھی کہ ایسی پیشگوئی کی جاتی کہ جس چیز کا وجود ہی ابھی دنیا میں نہ تھا اس کے ظہور کا حال بتایا جاتا جبکہ خدا کو منظور تھا کہ اس پیشگوئی کو ظہور میں لاوے۔تب اس نے ایک انسان کے دل میں یہ خیال ڈال دیا کہ وہ ایسی سواری ایجاد کرے جو آگ کے ذریعہ سے ہزاروں کو سوں تک پہنچا دے۔ایسا ہی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت اور بھی پیشگوئیاں ہیں ان میں سے ایک یہ پیشگوئی بھی ہے وَ اِذَا الصُّحُفُ نَشِرَت یعنی آخری زمانہ وہ ہوگا جبکہ کتابوں اور صحیفوں کی اشاعت بہت ہوگی گویا اس سے پہلے کبھی ایسی اشاعت نہیں ہوئی تھی۔یہ ان کلوں کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ سے آج کل کتا بیں چھپتی ہیں اور پھر ریل گاڑی کے ذریعہ سے ہزاروں کوسوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ایسا ہی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت یہ پیشگوئی ہے کہ اِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ یعنی آخری زمانہ میں ایک یہ واقعہ ہو گا کہ بعض نفوس بعض سے ملائے جاویں گے یعنی ملاقاتوں کے لئے آسانیاں نکل آئیں گی اور لوگ ہزاروں کوسوں سے آئیں گے اور ایک دوسرے سے ملیں گے سو ہمارے زمانہ میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔۔۔۔۔اسی طرح قرآن شریف میں ایک یہ پیشگوئی ہے وَإِذَا الْجِبَالُ سُپرت یعنی وہ آخری زمانہ ہوگا جبکہ پہاڑ چلائے جائیں گے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہاڑ اڑائے جائیں گے جیسا کہ اس زمانہ میں توپوں کے ساتھ پہاڑوں کو اڑا کر ان میں راستے بنائے گئے ہیں۔سو یہ تمام پیشگوئیاں قرآن شریف میں موجود ہیں۔مگر اس جگہ یہ نکتہ یا درکھنا چاہیے کہ عشاران اونٹنیوں کو کہتے ہیں جو حمل دار ہوں اور اگر چہ حدیث میں قلاص کا لفظ ہے مگر قرآن شریف میں اس لئے عشار کا لفظ استعمال کیا گیا تا یہ پیشگوئی قیامت کی طرف منسوب نہ کی جائے اور حمل کے قرینہ سے یہ دنیا کا واقعہ سمجھا جائے کیونکہ قیامت کو حمل نہیں ہوں گے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲۰ تا ۳۲۳) خدا نے اس آخری زمانہ کے بارے میں جس میں تمام قو میں ایک ہی مذہب پر جمع کی جائیں گی صرف ایک ہی نشان بیان نہیں فرمایا بلکہ قرآن شریف میں اور بھی کئی نشان لکھے ہیں منجملہ ان کے ایک یہ کہ۔۔۔۔۔ایسے اسباب پیدا ہو جا ئیں گے جس کے ذریعہ سے کتابیں بکثرت ہو جائیں گی ( یہ چھاپنے کے آلات کی طرف اشارہ ہے اور ایک یہ کہ ان دنوں میں ایسی سواری پیدا ہو جائے گی کہ اونٹوں کو بیکار کر دے گی اور اس کے ذریعہ سے ملاقاتوں کے طریق سہل ہو جائیں گے اور ایک یہ کہ دنیا کے باہمی تعلقات آسان ہو جا ئیں گے اور ایک