تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page xx
صفحه ٣٧٠ ۳۷۲ ۳۷۳ ۳۸۴ ۳۸۴ ۳۸۵ ۳۸۵ ۳۸۷ xix مضمون یا درکھو صلاح کا لفظ وہاں آتا ہے جہاں فساد کا بالکل نام و نشان نہ رہے انسان کبھی صالح نہیں کہلا سکتا جب تک وہ عقا ئدرد یہ اور فاسدہ سے خالی نہ ہو سورۃ العصر میں دنیا کی تاریخ موجود ہے جس پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام سے مجھ کو اطلاع دی ہے اور یہ اصلی اور سچی تاریخ ہے دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اس کا منبع ہے اور گناہ سے بھڑکتی ہے اور پہلے دل پر غالب آتی ہے اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے نماز وہی اصلی ہے جس میں مزا آجاوے ایسی ہی نماز کے ذریعہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہے صلوٰۃ اصل میں آگ میں پڑنے اور محبت الہی اور خوف الہی کی آگ میں پڑ کر اپنے آپ سے چل جانے اور ماسوی اللہ کو جلا دینے کا نام ہے گناہوں سے پاک کرنا خدا کا کام ہے اس کے سوائے کوئی طاقت نہیں جو زور کے ساتھ تمہیں پاک کر دے صلوٰۃ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ سوزش اور جلن اور حرقت کا ہونا بھی ضروری ہے اگر ہم یہ اعتقاد نہ رکھیں کہ کثرت کے ساتھ آپ کی روحانی اولاد ہوئی ہے تو اس پیشگوئی کے بھی منکر ٹھہریں گے نمبر شمار ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ ۱۷۱ ۱۷۲ ۱۷۳ ۱۷۴ ۱۷۵ ۱۷۶