تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 169

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۹ سورة التكوير نشان تو کئی سال ہوئے جو دو مرتبہ ظہور میں آگیا۔اور اونٹوں کے چھوڑے جانے اور نئی سواری کا استعمال اگر چہ بلا داسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آرہا ہے لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل طیار ہونے سے پوری ہو جائے گی کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور اُمید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے یکدفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلا دشام کے سفروں میں آجائے گا۔چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہو رہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑہ مکہ اور مدینہ کی راہ کا طیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بکروں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں۔بلکہ غالباً معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تھوڑی ہی مدت میں اونٹ کی سواری تمام دنیا میں سے اُٹھ جائے گی۔اور یہ پیشگوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھے گی۔اور سچ تو یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی ریل کا طیار ہو جانا گویا تمام اسلامی دنیا میں ریل کا پھر جاتا ہے۔کیونکہ اسلام کا مرکز مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہے۔اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اپنی کیفیت کی رُو سے خسوف کسوف کی پیشگوئی اور اونٹوں کے متروک ہونے کی پیشگوئی ایک ہی درجہ پر معلوم ہوتی ہیں۔کیونکہ جیسا کہ خسوف کسوف کا نظارہ کروڑ ہا انسانوں کو اپنا گواہ بنا گیا ہے ایسا ہی اونٹوں کے متروک ہونے کا نظارہ بھی ہے بلکہ یہ نظارہ کسوف خسوف سے بڑھ کر ہے کیونکہ خسوف کسوف صرف دو مرتبہ ہو کر اور صرف چند گھنٹہ تک رہ کر دُنیا سے گزر گیا۔مگر اس نئی سواری کا نظارہ جس کا نام ریل ہے ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ پہلے اونٹ ہوا کرتے تھے۔ذرا اُس وقت کو سوچو کہ جب مکہ معظمہ سے کئی لاکھ آدمی ریل کی سواری میں ایک ہیئت مجموعی میں مدینہ کی طرف جائے گا یا مدینہ سے مکہ کی طرف آئے گا تو اس نئی طرز کے قافلہ میں عین اس حالت میں جس وقت کوئی اہل عرب یہ آیت پڑھے گا کہ وَإِذَا الْعِشَارُ عُظلت یعنی یاد کروہ زمانہ جب کہ اونٹیاں بیکار کی جائیں گی اور ایک حمل دار اونٹنی کا بھی قدر نہ رہے گا جو اہل عرب کے نزدیک بڑی قیمتی تھی اور یا جب کوئی حاجی ریل پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف جاتا ہوا یہ حدیث پڑھے گا کہ وَيُتْرَكُ القِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور اُن پر کوئی سوار نہیں ہو گا تو سننے والے اس پیشگوئی کوشن کر کس قدر وجد میں آئیں گے اور کس قدر ان کا ایمان قوی ہو گا۔جس شخص کو عرب کی پرانی تاریخ سے کچھ واقفیت ہے وہ خوب