تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 167
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۶۷ سورة التكوير بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة التكوير بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ الكَدَرَتْ وَ إِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتْ وَإِذَا الْوُحُوضُ حُشِرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِرَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ وَإِذَا الْمَوْدَةُ سُبِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ۔ دجالی زمانہ ۔۔۔۔ کی علامات میں جبکہ ارضی علوم وفنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے ۔۔۔۔ وَ إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ یعنی اس وقت اونٹنی بیکار ہو جائے گی اور اس کا کچھ قدر و منزلت نہیں رہے گا۔ عشار حمل دار اونٹنی کو کہتے ہیں جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت سے اس آیت کو کچھ بھی تعلق نہیں کیونکہ قیامت ایسی جگہ نہیں جس میں اونٹ اونٹنی کو ملے اور حمل ٹھہرے بلکہ یہ ریل کے نکلنے کی طرف اشار ہے اور حمل دار ہونے کی اس لئے قید لگا دی کہ تا یہ قید دنیا کے واقعہ پر قرینہ تو یہ ہو اور آخرت کی طرف ذرہ بھی وہم نہ جائے ۔۔۔۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ اور جس وقت جانیں باہم ملائی جائیں گی ۔ یہ تعلقات اقوام اور بلاد کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں باعث راستوں کے کھلنے اور انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو ملے گی اور دور دور کے رشتے اور تجارتی اتحاد ہوں گے اور بلاد بعیدہ کے دوستانہ تعلقات بڑھ