تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 166
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سورة عبس کہا کہ یا حضرت ہمیں جماعت میں شامل ہونے کی بہت تکلیف ہوتی ہے۔آپ نے حکم دیا کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہے وہاں تک کے لوگوں کو ضرور آنا چاہیے۔(البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴/ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۲) وجُودُ يَوْمَةٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ ، وَ وُجُودُ يَوْمَيدٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ من تَرْهَقُهَا فَتَرَةٌ ن أولَيكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۔ایک اور درجہ دخول جنت دخول جہنم ہے جس کو درمیانی درجہ کہنا چاہیے اور وہ حشر اجساد کے بعد اور جنت عظمی یا جہنم کبری میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بوجہ تعلق جسد کامل قومی میں ایک اعلیٰ درجہ کی تیزی پیدا ہو کر اور خدا تعالیٰ کی تجلی رحم یا تجلی قہر کا حسب حالت اپنے کامل طور پر مشاہدہ ہو کر اور جنت عظمیٰ کو بہت قریب یا کریا جہنم کبری کو بہت ہی قریب دیکھ کر وہ لذات یا عقوبات ترقی پذیر ہو جاتی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ آپ فرماتا ہے۔۔۔۔وُجُوهٌ يَوْمَبِن مُسْفِرَةٌ - ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ - وَ وُجُوهٌ يَوْمَينٍ - - عَلَيْهَا غَبَرَةٌ - تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ - أوتيكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ - - (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۴)