تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 165

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۶۵ سورة عبس بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة عبس بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لا عَبَسَ وَ تَوَلَّى : أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى 3 أَوْ يَذَّكَّرُ یزگی فَتَنْفَعَهُ الذِّكرى اس سورۃ کے نازل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت کے پاس چند قریش کے بڑے بڑے آدمی بیٹھے تھے۔ آپ ان کو نصیحت کر رہے تھے کہ ایک اندھا آگیا اس نے کہا کہ مجھ کو دین کے مسائل بتلا دو۔ حضرت نے فرمایا کہ صبر کرو۔ اس پر خدا نے بہت غصہ کیا۔ آخر آپ اس کے گھر گئے اور اسے بلا کر لائے اور چادر بچھا دی اور کہا کہ تو بیٹھ ۔ اس اندھے نے کہا کہ میں آپ کی چادر پر کیسے بیٹھوں ؟ آپ نے وہ چادر کیوں بچھائی تھی ؟ اس واسطے کہ خدا کو راضی کریں ۔ تکبر اور شرارت بری بات ہے۔ ایک ذراسی بات سے ستر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۱۱) محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے بیان کیا کہ حضور موضع مد کے مباحثہ میں ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب تمہاری آنکھ کیوں نہیں اچھی کر دیتے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا ) جواب دینا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اندھا تھا جیسے لکھا ہے عَبَسَ وَ تَوَلَّی ۔ آنْ - جَاءَهُ الاعلی ۔ وہ کیوں نہ اچھا ہوا حالانکہ آپ تو افضل الرسل تھے۔ اور بھی اندھے تھے ایک دفعہ سب نے