تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 165
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ سورة عبس بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة عبس بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ عَبَسَ وَ تَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَغْنى وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَكى لى اَوْ يَذَكَر فَتَنْفَعَهُ الذِكرى لى اس سورۃ کے نازل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت کے پاس چند قریش کے بڑے بڑے آدمی بیٹھے تھے۔آپ ان کو نصیحت کر رہے تھے کہ ایک اندھا آگیا اس نے کہا کہ مجھ کو دین کے مسائل بتلا دو۔حضرت نے فرمایا کہ صبر کرو۔اس پر خدا نے بہت غصہ کیا۔آخر آپ اس کے گھر گئے اور اسے بلا کر لائے اور چادر بچھا دی اور کہا کہ تو بیٹھ۔اس اندھے نے کہا کہ میں آپ کی چادر پر کیسے بیٹھوں؟ آپ نے وہ چادر کیوں بچھائی تھی ؟ اس واسطے کہ خدا کو راضی کریں۔تکبر اور شرارت بری بات ہے۔ایک ذراسی بات سے ستر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۲۱۱) ( محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے بیان کیا کہ حضور موضع مد کے مباحثہ میں ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب تمہاری آنکھ کیوں نہیں اچھی کر دیتے۔حضرت اقدس نے فرمایا ) جواب دینا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اندھا تھا جیسے لکھا ہے عَبَسَ وَ تَوَلَّی۔آن جَاءَة الأعلى۔وہ کیوں نہ اچھا ہوا حالانکہ آپ تو افضل الرسل تھے۔اور بھی اندھے تھے ایک دفعہ سب نے