تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 161
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١۶١ سورة النزعت رسم عادت اور بناوٹ سے الگ ہو کر دعا میں مصروف ہوگا تو ایک دن قبولیت کے آثار مشاہدہ کرلے گا۔ البدر جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخه ۸ استمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۵) لوگ جو روپیہ بھیجتے ہیں لنگر خانہ کے لئے یا مدرسہ کے لئے اس میں اگر بے جا خرچ ہوں تو گناہ کا نشانہ و ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے تدبیر کرنے والوں کی قسم کھائی ہے فَالْمُدَبِرَاتِ اَمْرًا ۔ میں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت سمجھتا ہوں جو دین کی خدمت کریں۔ الحکم جلد ۱۳ نمبر ۱ مورخہ ۷ رجنوری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۲) يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ، تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۔ اپنی تائید میں آسمانی نشانات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ) نواں نشان زلزلوں کا متواتر آنا اور سخت ہونا ہے جیسا کہ آیت يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ - تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ سے ظاہر ہے۔ سو غیر معمولی زلزلے دنیا میں آرہے ہیں ۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۶) اس دن زمین ایک سخت اضطرابی حرکت کرے گی اور زمین میں ایک سخت اور شدید اضطراب پیدا ہو گا اور اس کے بعد ایک اور اضطراب زمین میں پیدا ہوگا جو پہلے کے بعد ظہور میں آئے گا ۔ ان آیتوں کے ظاہر الفاظ میں زلزلہ کا کوئی ذکر نہیں کیونکہ لغت میں رجفان اضطراب شدید کو کہتے ہیں چنانچہ بولا جاتا ہے رَجَفَ الشَّيْءُ یعنی اِضْطَرَبَ اضْطِرَابًا شَدِيدًا مگر چونکہ زمین کا اضطراب اکثر کر کے زلزلہ سے ہی ہوتا ہے اس لئے ہم نے اس جگہ ظن غالب کے طور پر زلزلہ کے معنی کئے ہیں ورنہ ممکن ہے کہ یہ اضطراب کسی اور حادثہ کی وجہ سے ہو زلزلہ کی وجہ سے نہ ہو یا اس اضطراب سے کوئی اور آفت مراد ہو۔ ( براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۷،۲۵۶) حصہ م، اس دن زمین سخت حرکت اضطرابی کرے گی اور اس کے بعد ایک اور حرکت اضطرابی ہوگی یعنی قیامت کے نزدیک دو سخت زلزلے آئیں گے ۔ پہلے کے بعد دوسرا زلزلہ آئے گا۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۲۶۰ حاشیه ) قرآن شریف میں اس نشانِ زلزلے کی نسبت ایک صاف پیشگوئی سورۃ النازعات میں درج ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسم کھا کر جو ایسے امور کے انتظام کے واسطے مامور ہوتے ہیں فرمایا ہے کہ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ - تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ - کیا معنے ۔ اس وقت زمین کا نپنے لگے گی اور ایسی کانپے گی کہ