تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 161

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة التزعت رسم عادت اور بناوٹ سے الگ ہو کر دعا میں مصروف ہوگا تو ایک دن قبولیت کے آثار مشاہدہ کر لے گا۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخه ۸ رستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۵) لوگ جو روپیہ بھیجتے ہیں لنگر خانہ کے لئے یا مدرسہ کے لئے اس میں اگر بے جا خرچ ہوں تو گناہ کا نشانہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے تدبیر کرنے والوں کی قسم کھائی ہے فَالمُد براتِ آمرا۔میں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت سمجھتا ہوں جو دین کی خدمت کریں۔التحام جلد ۱۳ نمبر ا مورخہ ۷ /جنوری ۱۹۰۹ صفحه ۱۲) يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ لا تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ۔اپنی تائید میں آسمانی نشانات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ) نواں نشان زلزلوں کا متواتر آنا اور سخت ہونا ہے جیسا کہ آیت يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ - تَتْبَعُهَا الرّادِفَةُ سے ظاہر ہے۔سوغیر معمولی زلزلے دنیا میں آرہے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۶) اس دن زمین ایک سخت اضطرابی حرکت کرے گی اور زمین میں ایک سخت اور شدید اضطراب پیدا ہوگا اور اس کے بعد ایک اور اضطراب زمین میں پیدا ہو گا جو پہلے کے بعد ظہور میں آئے گا۔ان آیتوں کے ظاہر الفاظ میں زلزلہ کا کوئی ذکر نہیں کیونکہ لغت میں رجفان اضطراب شدید کو کہتے ہیں چنانچہ بولا جاتا ہے رجف اللى يعنى اضْطَرَبَ اضْطِرَ ابا شدید امگر چونکہ زمین کا انضطراب اکثر کر کے زلزلہ سے ہی ہوتا ہے اس لئے ہم نے اس جگہ ظن غالب کے طور پر زلزلہ کے معنی کئے ہیں ورنہ ممکن ہے کہ یہ اضطراب کسی اور حادثہ کی وجہ سے ہو زلزلہ کی وجہ سے نہ ہو یا اس اضطراب سے کوئی اور آفت مراد ہو۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۷،۲۵۶) اس دن زمین سخت حرکت اضطرابی کرے گی اور اس کے بعد ایک اور حرکت اضطرابی ہوگی یعنی قیامت کے نزدیک دو سخت زلزلے آئیں گے۔پہلے کے بعد دوسرا زلزلہ آئے گا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۶۰ حاشیه ) قرآن شریف میں اس نشان زلزلے کی نسبت ایک صاف پیشگوئی سورۃ النازعات میں درج ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسم کھا کر جو ایسے امور کے انتظام کے واسطے مامور ہوتے ہیں فرمایا ہے کہ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ - تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ - کیا معنے۔اس وقت زمین کانپنے لگے گی اور ایسی کانپے گی کہ