تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 160
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 17۔سورة التزعت ثابت کرنا باقی رہا کہ نظام ظاہری میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے ان تمام افعال اور تغیرات کا بھی انجام اور انصرام بغیر فرشتوں کی شمولیت کے نہیں ہوتا۔سو منقولی طور پر تو اس کا ثبوت ظاہر ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات اور مقسمات امر رکھا ہے اور ہر یک عرض اور جوہر کے حدوث اور قیام کا وہی موجب ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اُٹھائے ہوئے ہیں۔و آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۸،۱۳۷ حاشیه ) فَإِنَّ لِكُلِّ صِفَةٍ مَلَكَ مُوَكَّلْ قَد خُلِقَ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہے لِتَوْزِيع تِلْكَ الصَّفَةِ عَلَى وَجْهِ التَّدْبِيرِ جو بڑے منظم طریق سے اس صفت کی برکات کو تقسیم وَوَضْعِهَا في فَحَلْهَا وَإِلَيْهِ إِشَارَةٌ فِي قَوْلِهِ کرنے اور اسے برمحل رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔تَعَالَى فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا - اسی کی طرف اللہ تعالی کے کلام فَالمُد براتِ أَمْرًا (کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ے صفحہ ۱۳۰ ) میں اشارہ ہے۔(ترجمہ از مرتب) أَعْلَمُ مِنْ رَّبِّي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ مُدَبَّرَاتٌ میں نے اپنے رب سے یہ علم پایا ہے کہ فرشتے سورج لِلشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنُّجُومِ وَكُل ما فی ، چاند، ستاروں اور آسمان وزمین کی ہر چیز کا انتظام کرنے السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَقَد قَالَ اللهُ تَعَالَى اِن والے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ، وَقَالَ عَلَيْهَا حَافِظ۔اسی طرح فرمایا فَالْمُدَ بِراتِ آمرا۔اور اسی فَالْمُدَيَّاتِ اَمْرًا وَمِثْلَ تِلْكَ الْآيَاتِ مضمون کی بہت سی آیات قرآن کریم میں ہیں۔پس كَثِيرُ فِي الْقُرْآنِ، فَطُوبَى لِلْمُتَدَبِرِينَ مبارک ہیں وہ جوتد بر کرتے ہیں۔( ترجمہ از مرتب) حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۹۶) لے ہماری شریعت میں طلب اسباب حرام نہیں ہے ان پر بھروسہ اور توکل ضرور حرام ہے اس لئے کوشش کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں قسم کھاتا ہے فَالْمُدَ يَرَاتِ أَمْرًا۔ماسوا اس کے خدا پر توکل اور دعا کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۴۸ مورخه ۲۴ /دسمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۸۴) دعا کے ساتھ تدابیر کو نہ چھوڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ تدبیر کو بھی پسند کرتا ہے اور اسی لئے فَالمُد براتِ أَمْرًا کہہ کر قرآن شریف میں قسم بھی کھائی ہے۔جب وہ اس مرحلہ کو طے کرنے کے لئے دعا بھی کرے گا اور تدبیر سے بھی اس طرح کام لے گا کہ جو مجلس اور صحبت اور تعلقات اس کو حارج ہیں ان سب کو ترک کر دے گا اور ل الطارق : ۵