تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 159
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۱۵۹ سورة النزعت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النزعت بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فَالْمُدَ يَرَاتِ اَمران بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ خدا تعالیٰ نے آیت فَالمُد تراتِ آمرا میں فرشتوں اور ستاروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔یعنی اس آیت میں کو اکپ سبع کو ظاہری طور پر مُدَابِر مَا فِي الْأَرْضِ ٹھہرایا ہے۔اور ملا یک کو باطنی طور پر ان چیزوں کا مدبر قرار دیا ہے۔چنانچہ تفسیر فتح البیان میں معاذ بن جبل اور قشیری سے یہ دونوں روایتیں موجود ہیں اور ابن کثیر نے حسن سے یہ روایت ملایک کی نسبت کی ہے کہ تدَابِرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ یعنی آسمان سے زمین تک جس قدر امور کی تدبیر ہوتی ہے وہ سب ملا یک کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور ابن کثیر لکھتا ہے کہ یہ متفق علیہ قول ہے کہ مد برات امر ملا یک ہیں۔اور ابن جریر نے بھی آیات فَالْمُد براتِ آمرا کے نیچے یہ شرح کی ہے کہ اس سے مراد ملا یک ہیں جو مد بر عالم ہیں یعنی گو بظاہر نجوم اور شمس و قمر و عناصر وغیرہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں مگر در حقیقت مدبر ملا یک ہی ہیں۔اب جبکہ خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت کے رو سے یہ بات نہایت صفائی سے ثابت ہوگئی کہ نظامِ روحانی کے لئے بھی نظام ظاہری کی طرح مؤثرات خارجیہ ہیں جن کا نام کلام الہی میں ملائکہ رکھا ہے تو اس بات کا