تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 157

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۷ سورة النبا أَن يَشْفَعَ مِنْ غَيْرِ إِذْنِ اللهِ لِأَنَّ الله ظاہر کرتی ہے کہ اس روح کو شفاعت کا اختیار نہیں اور شفیع عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ يَوْمَ يَقُومُ وہی ہوگا جس کو اذن ملے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت الرُّوحُ وَ الْمَلَيكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا میں صاف فرما دیا ہے کہ اس روز یعنی قیامت کے دن روح مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَ قَالَ صَوَابًا وَأُشِيرَ فِي اور فرشتے کھڑے ہوں گے اور شفاعت کے بارے میں ايَةِ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا کوئی بول نہیں سکے گا مگر وہی جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مَّحْمُودًا إِلى أَنَّهُ تَعَالَى لَا يُعْطِي هَذَا اجازت ملے اور کوئی نالائق شفاعت نہ کرے اور آیت الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ إِلَّا نَبِيَّةَ وَصَفِيَّةَ على ان يبعث میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ مُحَمَّدًا الْمُصْطَفَى خَيْرَ الرُّسُلِ وَخَاتَمَ مقام محمود بجز اپنے برگزیدہ نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّينَ۔ وَأُلْقِيَ فِي رَوْعِي أَنَّ فِي رَوْعِی أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ کے اور کسی کو عنایت نہیں کرے گا اور میرے دل میں ڈالا لفظ الرُّوحِ فِي آيَةِ يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ گیا کہ اس آیت میں لفظ روح سے مراد رسولوں اور نبیوں جَمَاعَةُ الرُّسُلِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمُحَدِّثِينَ اور محدثوں کی جماعت مراد ہے جن پر روح القدس ڈالا أَجْمَعِينَ الَّذِينَ يُلْقَى الرُّوحُ عَلَيْهِمْ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں مگر یہ شبہ کہ وَيُجْعَلُونَ مُكَلِّمِينَ۔ وَأَمَّا ذِكُرُهُمْ بِلَفْظِ روح کے لفظ سے ان کو یاد کیا ارواح کے لفظ سے کیوں یاد الرُّوحِ لا يلفظ الْأَرْوَاحِ، فَاعْلَمْ أَنَّهُ نہیں کیا۔ پس جان کہ قرآن کا محاورہ ایسا ہے کہ کبھی وہ قَدْ يُذْكَرُ الْوَاحِدُ فِي الْقُرْآنِ وَيُرَادُ مِنْهُ واحد کے لفظ سے جمع مراد لے لیتا ہے اور بھی جمع سے واحد الْجَمْعُ وَبِالْعَكْسِ، سُنَّةٌ قَدْ جَرَتْ في ارادہ رکھتا ہے یہ قرآن شریف کی ایک عادت مستمرہ ہے۔ كِتَابٍ مُّبِينٍ وَذَكَرَهُمُ اللهُ بِلَفْظِ اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو روح کے لفظ سے یاد کیا الرُّوحِ الَّذِي يَدُلُّ عَلَى الْإِنْقِطَاعِ مِن یعنی ایسے لفظ سے جو انقطاع من الجسم پر دلالت کرتا ہے یہ الْجِسْمِ لِيُشِيرَ إِلى أَنَّهُمْ فِي عِيْشَتِهِمُ اس لئے کیا کہ تاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ الدُّنْيَوِيَّةِ كَانُوا قَدْ فَنَوْا بِكُلِّ قُوَاهُمْ فِي مطہر لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اپنی تمام قوتوں کی رو سے مَرْضَاةِ اللهِ، وَخَرَجُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَا مرضات الہی میں فنا ہو گئے تھے اور اپنے نفسوں سے ایسے يَخْرُجُ الْأَرْوَاحُ مِنَ الْأَبْدَانِ، وَمَا بَقِی باہر آگئے تھے جیسے کہ روح بدن سے باہر آتی ہے اور نہ لَهُمُ النَّفْسُ وَأَهْوَاءُهَا وَكَانُوا لا ان کا نفس اور نہ اس نفس کی خواہشیں باقی رہی تھیں اور اے بنی اسرائیل : ۸۰