تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 156

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ܪܬܙ سورة النبا جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَوْ مَلَكَ آخَرُ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی دوسرا فرشتہ ہے اور دونوں قسم کی عَلَى اخْتِلَافِ الرَّوَايَاتِ كَمَا لَا يَخفى روایتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ عَلَى النَّاظِرِينَ ثُمَّ مَنْطوقُ الْآيَةِ نہیں۔پھر منطوق آیت کا بتصریح ظاہر کرتا ہے اور تنقیح کے يُبْدِي بِالتَّصْرِيحِ وَيَحْكُمُ بِالتَّنْقِيحِ أَنَّ ساتھ حکم دیتا ہے کہ یہ واقعہ قیامت سے متعلق ہے اور اس هذِهِ الْوَاقِعَةَ مُتَعَلَّقَةٌ بِالْقِيَامَةِ وَلَهَا کے لئے علامت کی طرح ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو كَالْعَلَامَةِ، فَإِنَّ الله تَعَالى ذَكَرَ هذه بہشت کے ذکر کے درمیان لکھا ہے اور اس کی نعمتوں کے الْقِصَّةَ فى ذِكْرِ قِصَّةِ الْجَنَّةِ وَنُعَمَائِها بیان کرنے کے وقت اس کو بیان فرمایا ہے اور پھر اور بھی الْعَامَّةِ، ثُمَّ صَرَّحَ بِتَضريح اخَرَ وَقَالَ تصریح کر کے فرمایا ہے کہ یہ وہی حق کے کھلنے کا دن ہے اور ذلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ، وَلَفْظُ الْيَوْمِ الْحَقي في اليوم الحق قرآن میں قیامت کا نام ہے چنانچہ واقف کار الْقُرْآنِ يَمَعْنَى الْقِيَامَةِ، وَيَعْلَمُهُ كُلُّ امانت دار اس کو جانتا ہے پس اب غور کر کہ کیوں کر خدا تعالیٰ خَبِيرٍ أَمِينِ۔فَانْظُرْ كَيْفَ بَيْنَ أَنهَا نے کھول کر بیان کر دیا کہ یہ واقعہ قیامت سے متعلق ہے وَاقِعَةٌ مِن وَقَائِعِ يَوْمِ الدِّينِ، ثُمَّ انظر پھر تو غور کر کہ وہ لوگ جن کے دل بیمار ہیں اور ان کے دل كَيْفَ يَفْتَرُونَ الَّذِيْنَ في قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ میں خدائے تعالی کا خوف نہیں کیوں کر افترا پردازیاں کر وَلا يَخَافُونَ الله وَمَا كَانُوا مُتَّقِينَ رہے ہیں اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔پس حاصل کلام یہ فَالْحَاصِل أَنَّ الْآيَةَ لَا تُوَيْدُ زَعْمَ هذَا ہے کہ یہ آیت اس نکتہ چین کے زعم کی کچھ مؤید نہیں بلکہ یہ تو الواثنى بَلْ تُمَرِّقُه وَبِهَا يَقَعُ الْقَوْلُ اس کے قول کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے اور اس کے ساتھ عَلَيْهِ وَتَجْعَلُهُ الْآيَةُ مِنَ الْكَاذِبِينَ۔فَإِنَّهُ بات اس پر پڑتی ہے اور یہ آیت اس کو جھوٹوں میں سے يَقُولُ إِنَّ عِيسَى إِلَهُ وَابْنُ إِلهِ، وَيَقُولُ ٹھہراتی ہے کیونکہ اس نکتہ چین کا یہ قول ہے کہ عیسی خدا اور إنَّ الرُّوحَ هُوَ اللهُ وَعَيْنُه وَالْأَيَّةُ تُبدِینی خدا کا بیٹا ہے اور کہتا ہے کہ روح خدا کو ہی کہتے ہیں اور روح أَنَّ هَذَا مَيْتُهُ، وَتُبْدِى أَنَّ الرُّوحَ الَّذینی اور خدا ایک ہی ہے اور آیت ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اس کا ذُكِرَهُهُنَا هُوَ عَبْد عَاجِز تخت حُكْم جھوٹ ہے اور نیز ظاہر کرتی ہے کہ وہ روح جس کا ذکر اس اللهِ وَقَدْرِهِ، وَمَا كَانَ لَهُ خِيَرَةٌ فِي أَمْرِي جگہ ہے وہ ایک بندہ عاجز ہے جس کو خدا کے کسی امر میں وَإِنْ هُوَ إِلَّا مِنَ القَائِعِيْنَ، وَمَا كَانَ لَهُ اختیار نہیں اور کچھ نہیں صرف فرمانبردار ہے اور نیز یہ بھی