تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 151
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۱ سورة المرسلت مجد دجس کا بھیجنا بزبان رسول کریم معہود ہو چکا ہے وہ اُس عیسائی تاریکی کے وقت میں بھیجا جائے گا۔(شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۰،۳۱۹) وہ آخری زمانہ جس سے رسولوں کے عدد کی تعیین ہو جائے گی یعنی آخری خلیفہ کے ظہور سے قضاء و قدر کا اندازہ جو مرسلین کی تعداد کی نسبت مخفی تھا ظہور میں آجائے گا۔یہ آیت بھی اس بات پر نص صریح ہے کہ مسیح موعود اس اُمت میں سے ہوگا کیونکہ اگر بھلا مسیح ہی دوبارہ آجائے تو وہ افادو تعیین عدد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تو بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک رسول ہے جو فوت ہو چکا ہے اور اس جگہ خلفائے سلسلہ محمدیہ کی تعین مطلوب ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ اقتت کے یہ معنے یعنی معین کرنا اس عدد کا جوارادہ کیا گیا ہے کہاں سے معلوم ہوا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتب لغت لسان العرب وغیرہ میں لکھا ہے کہ قَدْ يَجِينُ التَّوْقِيتُ يمَعْنَى تَبْيِينِ الْحَدِ وَالْعَدَدِ وَالْمِقْدَارِ كَمَا جَاءَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَقِتْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ حَدًّا أَى لَمْ يُقَدِرُ وَلَمْ يَحْذَهُ بِعَدَدٍ مَخصُوص یعنی لفظ توقیت جس سے اقتَتْ نکلا ہے بھی حد اور شمار اور مقدار کے بیان کرنے کے لئے آتا ہے جیسا کہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمر کی کچھ توقیت نہیں کی۔یعنی خمر کی حد کی کوئی تعداد اور مقدار بیان نہیں کی اور تعیین عدد بیان نہیں فرمائی۔پس یہی معنے آیت وَ إِذَا الرُّسُلُ أُقتَتْ کے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا اور یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسولوں کی آخری میزان ظاہر کرنے والا مسیح موعود ہے اور یہ صاف بات ہے کہ جب ایک سلسلہ کا آخر ظاہر ہو جاتا ہے تو عند العقل اس سلسلہ کی پیمائش ہو جاتی ہے اور جب تک کوئی خط ممتد کسی نقطہ پر ختم نہ ہوا ایسے خط کی پیمائش ہونا غیر ممکن ہے کیونکہ اس کی دوسری طرف غیر معلوم اور غیر معین ہے۔پس اس آیت کریمہ کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود کے ظہور سے دونوں طرف سلسلہ خلافت محمدیہ کے معین اور مشخص ہو جائیں گے گویا یوں فرماتا ہے وَاذَا الْخُلَفَاءِ بُيْنَ تَعْدَادُهُمْ وَحُرِّدَ عَدَدُهُمْ بِخَلِيْفَةٍ هُوَ أَخَرُ الْخُلَفَاءِ الَّذِي هُوَ الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ فَإِنَّ أَخَرَ كُلَّ شَيْءٍ يُعَيْنُ مِقْدَارَ ذَالِكَ الشَّيءِ وَتَعْدَادَهُ فَهَذَا هُوَ مَعْنَى وَإِذَا الرُّسُلُ أَقَتَتْ - (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۵،۲۲۴) الم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتَان أَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا جسم عنصری کے لئے خود اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ وہ آسمان پر جاوے جیسا کہ وہ فرماتا ہے الم نَجْعَلِ