تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 147

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة الدهر ہے۔ میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۴) اکثر دفعہ ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کو اولاد ہوتی ہے تو ان کی کوئی امید بظاہر اولاد سے فائدہ اٹھانے کی نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے پھر بھی وہ اس سے محبت اور پرورش کرتے ہیں۔ یہ ایک طبعی امر ہوتا ہے جو محبت اس درجہ تک پہنچ جاوے اسی کا اشارہ ایتاءِ ذِی القربی میں کیا گیا ہے کہ اس قسم کی محبت خدا تعالیٰ کے ساتھ ہونی چاہیئے ۔ نہ مراتب کی خواہش نہ ذلت کا ڈر۔ جیسے آیت لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا سے ظاہر ہے غرضکہ یہ باتیں ہیں جن کو یا د رکھنا چاہیے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۵) لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُوراً یعنی خدا رسیدہ اور اعلیٰ ترقیات پر پہنچے ہوئے انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ اس کی نیکی خالصاً للہ ہوتی ہے اور اس کے دل میں یہ بھی خیال نہیں ہوتا کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے یا اس کا شکریہ ادا کیا جاوے۔ نیکی محض اس جوش کے تقاضا سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع کے واسطے اس کے دل میں رکھا گیا ہے ۔ ایسی پاک تعلیم نہ ہم نے توریت میں دیکھی ہے اور نہ انجیل میں ۔ ورق ورق کر کے ہم نے پڑھا ہے مگر ایسی پاک اور مکمل تعلیم کا نام ونشان نہیں ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء صفحه ۱۱) چاندی کے بیچ میں ایک جو ہر محبت ہے اس لئے یہ زیادہ مرغوب ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جنت کی نعما میں چاندی کے برتنوں کا ذکر ہے حالانکہ اس سے بیش قیمت سونا ہے۔ وہ لوگ اس راز کو جو کہ خدا تعالیٰ نے چاندی میں رکھا ہے نہیں سمجھے۔ جنت میں چونکہ غل اور کینہ اور بغض وغیرہ نہیں ہوگا اور آپس میں محبت ہوگی اور چونکہ چاندی میں جو ہر محبت ہے اس لئے اس نسبت باطنی سے جنت میں اس کو پسند کیا گیا ہے۔ اس میں جو ہر محبت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر طرفین میں لڑائی ہو تو چاندی دے دینے سے صلح ہو جاتی ہے اور کدورت دور ہو جاتی ہے۔ کسی کی نظر عنایت حاصل کرنی ہو تو چاندی پیش کی جاتی ہے۔ علوم یا تو قیاس سے معلوم ہوتے ہیں اور یا تجربہ سے۔ چاندی کے اس اثر کا پتہ تجربہ سے لگتا ہے۔ خواب میں اگر کسی مسلمان کو چاندی دے تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اسے اسلام سے محبت ہے اور وہ مسلمان ہو جائے گا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخه ۲۱ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۴۱) عَلِيهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَ اسْتَبْرَقٌ وَ حُلُوا أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ