تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 141

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۴۱ سورة الدهر ) قوت ملتی ہے۔گناہ کی حالت میں انسان پستی اور ذلت میں ہوتا ہے اور جوں جوں گناہ کرتا جاتا ہے نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے۔لیکن جب گناہوں پر موت آتی ہے تو وہ اس پستی کے گڑھے میں ہی پڑا ہوا ہوتا ہے جب تک او پر چڑھنے کے لئے اسے زنجیلی شربت نہ ملے پس نیکیوں کی توفیق عطا ہونے پر وہ پھر اوپر چڑھنا شروع کرتا ہے اور یہ پہاڑی گھاٹیاں وہی ہیں جو صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں بیان ہوئی ہیں۔خدا تعالیٰ کے راست بازوں اور منعم علیہ کی راہ ہی وہ اصل مقصود ہے جو انسان کے لئے خدا تعالیٰ نے رکھی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۵ مورخه ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) ایسے لوگ جو خدا میں محو ہیں خدا تعالیٰ نے ان کو وہ شربت پلایا ہے جس نے ان کے دل اور خیالات اور ارادات کو پاک کر دیا۔نیک بندے وہ شربت پی رہے ہیں جس کی ملونی کافور ہے۔وہ اس چشمہ سے پیتے ہیں جس کو وہ آپ ہی چیرتے ہیں۔اخبار بدر جلد ۲ نمبر ۲۶، ۲۸،۲۷ مورخه ۲۸ جون و ۵ و ۱۲ ؍جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۳) مومن کے نفس کی تکمیل دو شربتوں کے پینے سے ہوتی ہے ایک شربت کا نام کا فوری ہے اور دوسرے کا نام زنجبیلی ہے۔کا فوری شربت تو یہ ہے کہ اس کے پینے سے نفس بالکل ٹھنڈا ہو جاوے اور بدیوں کے لیے کسی قسم کی حرارت اس میں محسوس نہ ہو۔جس طرح پر کا فور میں یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ زہریلے مواد کو دبا دیتا ہے۔اس لئے اسے کافور کہتے ہیں اسی طرح پر یہ کا فوری شربت گناہ اور بدی کی زہر کو دبا دیتا ہے اور وہ مواد رڈ یہ جو اُٹھ کر انسان کی روح کو ہلاک کرتے ہیں ان کو اُٹھنے نہیں دیتا بلکہ بے اثر کر دیتا ہے۔دوسرا شربت زکھیلی ہے جس کے ذریعہ سے انسان میں نیکیوں کے لیے ایک قوت اور طاقت آتی ہے اور پھر حرارت پیدا ہوتی ہے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيهِم تو اصل مقصد اور غرض ہے یہ گویا ز کھیلی شربت ہے اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّايِّينَ کا فوری شربت ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۲) قرآن شریف میں ایک جگہ ذکر کیا ہے کہ دو حالتیں ہوتی ہیں ایک حالت تو وہ ہوتی ہے کہ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا یعنی ایسا شربت پی لیتے ہیں جس کی ملونی کا فور ہو۔اس سے یہ مطلب ہے کہ دنیا کی محبت سے دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔کافور ٹھنڈی چیز ہے اور زہروں کو دبا لیتا ہے، ہیضہ اور وبائی امراض کے لیے مفید ہے۔پس پہلا مرحلہ تقویٰ کا وہ ہے جس کو استعارہ کے رنگ میں يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا