تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 140
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۰ سورة الدهر اور وہ پاک باطن ہو جائیں گے اور معرفت کی خنکی ان کو پہنچے گی۔پھر فرماتا ہے کہ وہ لوگ قیامت کو اس چشمہ کا پانی پئیں گے جس کو وہ آج اپنے ہاتھ سے چیر رہے ہیں۔اس جگہ بہشت کی فلاسفی کا ایک گہرا راز بتلایا ہے اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۶) جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔مومن جو خدا کے نیک بندے ہیں وہ کا فوری پیالے پیتے ہیں کافور کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ کفر ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔اور کافور مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت ڈھانکنے والا۔ایسے ہی طاعون بھی ہے۔میں سمجھتا ہوں طاعون اسی لئے نام رکھا ہے کہ یہ اہل حق پر طعن کرنے سے پیدا ہوتی ہے اور طاعون اور دیگر امراض وبائی ہیضہ میں کا فور ایک عمدہ چیز ہے اور مفید ثابت ہوئی ہے غرض کا فوری پیالے کا پہلے ذکر کیا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اول یہ بتایا جائے کہ کامل ہونے کے لئے کا فوری پیالہ پہلے پینا چاہئے تا کہ دنیا کی محبت سرد ہو جائے اور وہ فسق و فجور کے خیالات جو دل سے پیدا ہوتے تھے اور جن کی زہر روح کو ہلاک کرتی تھی دبائے جائیں اور اس طرح پر گناہ کی حالت سے انسان نکل آئے پس چونکہ پہلے میل کچیل کا دور ہونا ضروری تھا اس لئے کا فوری پیالہ پلایا گیا۔اس کے بعد دوسرا حصہ زنجبیلی ہے۔زنجبیل اصل میں دولفظوں سے مرکب ہے زنا اور جبل سے۔اور زنا لغت عرب میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل پہاڑ کو۔اور اس مرکب لفظ کے معنے یہ ہوئے کہ پہاڑ پر چڑھ گیا اور یہ صاف بات ہے کہ ایک زہر یلے اور وبائی مرض کے بعد انسان کو اعلیٰ درجہ کی صحت تک پہنچانے کے واسطے دو حالتوں میں سے گزرنا ہوتا ہے پہلی وہ حالت ہوتی ہے جب کہ زہریلے اور خطرناک مادے رک جاتے ہیں اور ان میں اصلاح کی صورت پیدا ہوتی ہے اور زہر یلے حملوں سے نجات ملتی ہے اور وہ مواد دبائے جاتے ہیں مگر اعضاء بدستور کمزور ہوتے ہیں اور ان میں کوئی قوت اور سکت نہیں ہوتی جس سے وہ کام کرنے کے قابل ہو ایک ربودگی کی سی حالت ہوتی ہے یہ وہ حالت ہوتی ہے جس کو کا فوری پیالے پینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔اس حالت میں گناہ کا ز ہر دبایا جاتا ہے اور اس جوش کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے جو نفس کی سرکشی اور جوش کی حالت میں ہوتا ہے مگر ابھی نیکی کرنے کی قوت نہیں آتی۔پس دوسری حالت جو تخیلی حالت ہے وہ وہی ہے جب کہ صحت کامل کے بعد توانائی اور طاقت آ جائے یہاں تک کہ پہاڑوں پر بھی چڑھ سکے۔اور زنجبیل بجائے خود حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس ذکر سے بتایا کہ پہلے مومنوں کے گناہوں کی حالت پر موت آتی ہے اور پھر انہیں نیکی کی توفیق اور