تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 139

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۳۹ سورة الدهر تیسرے مرتبہ میں یہ حالت میسر آتی ہے ایسی حالت کی نسبت اللہ تعالیٰ آیت موصوفہ میں اشارہ فرماتا ہے کہ انتہائی درجہ کے باخدا لوگ وہ پیالے پیتے ہیں۔جن میں زنجبیل کی ہوئی ہے یعنی وہ روحانی حالت کی پوری قوت پا کر بڑی بڑی گھاٹیوں پر چڑھ جاتے ہیں اور بڑے مشکل کام ان کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوتے ہیں اور خدا کی راہ میں حیرت ناک جانفشانیاں دکھلاتے ہیں۔اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ علم طب کی رو سے زنجبیل وہ دوا ہے جس کو ہندی میں سونٹھ کہتے ہیں۔وہ حرارت غریزی کو بہت قوت دیتی ہے اور دستوں کو بند کرتی ہے اور اس کا زنجبیل اسی واسطے نام رکھا گیا ہے کہ گویا وہ کمزور کو ایسا قوی کرتی ہے اور ایسی گرمی پہنچاتی ہے جس سے وہ پہاڑوں پر چڑھ سکے۔ان متقابل آیتوں کے پیش کرنے سے جن میں ایک جگہ کا فور کا ذکر ہے اور ایک جگہ زنجبیل کا۔خدا تعالیٰ کی یہ غرض ہے کہ تا اپنے بندوں کو سمجھائے کہ جب انسان جذبات نفسانی سے نیکی کی طرف حرکت کرتا ہے تو پہلے پہل اس حرکت کے بعد یہ حالت پیدا ہوتی ہے کہ اس کے زہریلے مواد نیچے دبائے جاتے ہیں۔اور نفسانی جذبات رو بھی ہونے لگتے ہیں جیسا کہ کا فورزہریلے مواد کو دبا لیتا ہے اسی لئے وہ ہیضہ اور محرقہ تہوں میں مفید ہے اور پھر جب زہریلے مواد کا جوش بالکل جاتا رہے اور ایک کمزور صحت جو ضعف کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے حاصل ہو جائے تو پھر دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ ضعیف بیمار زنجبیل کے شربت سے قوت پاتا ہے۔اور زنجبیلی شربت خدا تعالیٰ کے حسن و جمال کی جلی ہے جو روح کی غذا ہے۔جب اس تجلی سے انسان قوت پکڑتا ہے تو پھر بلند اور اونچی گھاٹیوں پر چڑھنے کے لائق ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسی حیرت ناک سختی کے کام دکھلاتا ہے کہ جب تک یہ عاشقانہ گرمی کسی کے دل میں نہ ہو ہرگز ایسے کام دکھلا نہیں سکتا۔سو خدا تعالیٰ نے اس جگہ ان دو حالتوں کے سمجھانے کے لئے عربی زبان کے دو لفظوں سے کام لیا ہے۔ایک کافور سے جو نیچے دبانے والے کو کہتے ہیں اور دوسرے زنجبیل سے جواو پر چڑھنے والے کو کہتے ہیں۔اور اس راہ میں بھی دو حالتیں سالکوں کے لئے واقع ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۶ تا ۳۸۸) جو لوگ حقیقی نیکی کرنے والے ہیں ان کو وہ جام پلائے جائیں گے جن کی ملونی کافور کی ہوگی یعنی دنیا کی سوزشیں اور حسرتیں اور ناپاک خواہشیں ان کے دل سے دور کر دی جائیں گی۔کافور کفر سے مشتق ہے اور کفر لغت عرب میں دبانے اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔مطلب یہ کہ ان کے جذبات ناجائز دبائے جائیں گے