تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 138

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة الدهر شریک کر دیں۔اور جب وہ چشمہ نہر کی صورت پر آجاتا ہے اور قوت ایمانی بڑھ جاتی ہے اور محبت الہی نشو ونما پانے لگتی ہے تب اُن کو ایک اور شربت پلایا جاتا ہے جو تھیلی شربت کہلاتا ہے۔یعنی پہلے تو وہ کا فوری شربت پیتے ہیں جس کا کام صرف اس قدر ہے کہ دنیا کی محبت اُن کے دلوں پر سے ٹھنڈی کر دے لیکن بعد اس کے وہ ایک گرم شربت کے بھی محتاج ہیں تا خدا کی محبت کی گرمی اُن میں بھڑ کے کیونکہ صرف بدی کا ترک کرنا کمال نہیں ہے۔پس اسی کا نام زنجیلی شربت ہے۔اور اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے جس کے معنے ہیں خدا کی راہ پوچھ۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۹،۱۵۸) کافور کا لفظ اس واسطے اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ لغت عرب میں کفر دبانے کو اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ایسے خلوص سے انقطاع اور رجوع الی اللہ کا پیالہ پیا ہے کہ دنیا کی محبت بالکل ٹھنڈی ہوگئی ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ تمام جذبات دل کے خیال سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔اور جب دل نالائق خیالات سے بہت ہی دور چلا جائے اور کچھ تعلقات ان سے باقی نہ رہیں تو وہ جذبات بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ نابود ہو جاتے ہیں۔سو اس جگہ خدا تعالیٰ کی یہی غرض ہے اور وہ اس آیت میں یہی سمجھاتا ہے کہ جو اس کی طرف کامل طور سے جھک گئے وہ نفسانی جذبات سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور ایسے خدا کی طرف جھک گئے ہیں کہ دنیا کی سرگرمیوں سے ان کے دل ٹھنڈے ہو گئے اور ان کے جذبات ایسے دب گئے جیسا کہ کا فورزہریلے مادوں کو دبا دیتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کا فوری پیالہ کے بعد وہ پیالے پیتے ہیں جن کی ملونی زنجبیل ہے۔اب جاننا چاہئے کہ زنجبیل دولفظوں سے مرکب ہے یعنی زنا اور جہل سے۔اور زنا لغت عرب میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل پہاڑ کو۔اس کے ترکیبی معنی یہ ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ گیا۔اب جاننا چاہئے کہ انسان پر ایک زہریلی بیماری کے فرو ہونے کے بعد اعلیٰ درجہ کی صحت تک دو حالتیں آتی ہیں۔ایک وہ حالت جبکہ زہریلے مواد کا جوش بکلی جاتا رہتا ہے اور خطرناک مادوں کا جوش رُوبہ اصلاح ہو جاتا ہے اور تمی کیفیات کا حملہ بخیر و عافیت گزرجاتا ہے اور ایک مہلک طوفان جو اٹھا تھا نیچے دب جاتا ہے لیکن ہنوز اعضاء میں کمزوری باقی ہوتی ہے۔کوئی طاقت کا کام نہیں ہوسکتا۔ابھی مردہ کی طرح افتاں و خیزاں چلتا ہے۔اور دوسری وہ حالت ہے کہ جب اصلی صحت عود کر آتی اور بدن میں طاقت بھر جاتی ہے اور قوت کے بحال ہونے سے یہ حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ بلا تکلف پہاڑ کے اوپر چڑھ جائے اور نشاط خاطر سے اونچی گھاٹیوں پر دوڑتا چلا جائے۔سوسلوک کے