تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 133

۱۳۳ سورة القيامة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے ٹھہرایا گیا جیسا کہ مسیح خاتم الخلفاء کو بھی آثار قیامت سے ٹھہرایا گیا اور اس آیت سے پہلے یہ آیت ہے فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ یعنی جس وقت پتھرا جائیں گی آنکھیں یعنی وہ ایسے دن ہوں گے جو دنیا پر ہولناک عذاب نازل ہوں گے۔ایک عذاب ختم نہیں ہوگا جو دوسرا موجود ہو جائے گا۔پھر بعد کی آیت میں فرمایا يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَيذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ - یعنی اس دن انسان کہے گا کہ اب ہم ان متواتر عذابوں سے کہاں بھاگ جائیں اور بھا گنا غیر ممکن ہو گا یعنی وہ دن انسان کے لئے بڑی مصیبت کے دن ہوں گے اور ان کا ہولناک نظارہ بے حواس کر دے گا۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲۱ حاشیه ) إلى رَبِّكَ يَوْمَينِ الْمُسْتَقَرُ۔اس آیت کو قیامت پر چسپاں کرنا غلطی ہے کیونکہ اس دن تو خدا کی طرف رجوع کرنا کسی کام نہ آوے گا بلکہ یہ اس زمانہ کی حالت ہے کہ طاعون کے بارے میں کوئی حیلہ حوالہ کریں ہر گز کام نہ آوے گا۔آخر مستقر خدا تعالیٰ ہی ہو گا۔لوگ جب اس کو مانیں گے تب وہ اس سے رہائی دے گا۔اَيْنَ الْمَفَرُّ بھی اسی پر چسپاں ہے کیونکہ دوسری آفات میں تو کوئی نہ کوئی مفر ہوتا ہے مگر طاعون میں کوئی مفر نہیں ہے صرف خدا تعالی کی پناہ ہی کام آوے گی۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخه کیم جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۶) وجُوهٌ يَوْمَن نَاضِرَةٌ إِلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ اس دن مومنوں کے منہ تر و تازہ اور خوبصورت ہوں گے اور وہ اپنے رب کو دیکھیں گے۔سرمه چشمه آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵۷) قیامت کو وہ منہ تر و تازہ ہوں گے جو اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۲) إلى رَبَّهَا نَاظِرَةٌ اس سے دیدار ثابت ہوتا ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۶۳ حاشیه )