تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 131

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۱ سورة القيامة۔وَكَرْرُهَا لِإِدْرَاكِ هَذِهِ الْحَقِيقَةِ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ لکھا ہے اور اگر تو چاہے تو اس آیت کو پڑھ کہ برق وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ثُمَّ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ تَدَبَّرُ بِالْخُشُوعِ وَالْخَشِيَّةِ، وَلَا يَذْهَبْ فِكْرُكَ اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ نشان قیامت کے إلى أَنه مِن وَقَائِعِ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكَ وَهَذِهِ الْخطاً واقعات میں سے ہے کیونکہ جس خسوف اور کسوف کا الَّذِي يُبْعِدُكَ مِنَ الْمَحَجَّةِ فَإِنَّ الْخُسُوفَ اس جگہ ذکر ہے وہ اس دنیوی پیدائش پر موقوف ہے الَّذِي ذُكر ههنا هُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى وُجُوْدِ هَذه - وجدیده که خسوف کسوف اوضاع مقررہ منتظمہ سے ذُكِرَهُهُنَا النَّشْأَةِ الدُّنْيَوِيَّةِ فَإِنَّهُ يَنْشَأُ مِنْ أَشْكَالِ پیدا ہوتا ہے اور اوقات معینہ اور ایام معلومہ میں نظامِيَّةٍ، وَأَوْضَاع مُقَرَّرَةٍ مُنتَظِمَةٍ وَيَكُونُ في اس کا ظہور ہوتا ہے اور خسوف کسوف میں یہ امر الْأَوْقَاتِ الْمُعَيَّنَةِ وَالْأَيَّامِ الْمَعْلُومَة ضروری ہے کہ آفتاب اور قمر بعد اس کے کہ اس الْمُشْتَهِرَةِ وَلَا بُدَّ فِيْهِ مِن رُّجُوعِ الشَّيرَينِ إلى حالت سے باہر آویں اپنی پہلی حالت کی طرف هَيْتَعِهِمَا السَّابِقَةِ بَعْدَ خُرُوجِهِمَا مِنْ هَذِهِ رجوع کریں مگر وہ نشان جو قیامت کے قائم ہونے الْحَالَةِ۔وَأَمَّا الْآيَاتُ الَّتِي تَظهَرُ عِنْدَ وُقُوع کے وقت ظہور میں آئیں گے وہ اس وقت ظاہر ہوں وَاقِعَةِ السَّاعَةِ فَهِيَ تَفْتَصِی فَسَادَ هَذا الكَوْنِ گے جبکہ دنیا کا سلسلہ انگلی درہم برہم ہو جائے گا بِالْكُلِيَّةِ فَإِنَّهَا حَالَاتٌ لَا تَبْقَى الدُّنْيَا بَعْدَهَا کیونکہ وہ ایسی حالتیں ہیں کہ ان کے بعد دنیا نہیں وَلَا أَهْل هذهِ النَّارِ الثَّنِيَّةِ وَالْخُسُوف رہے گی اور نہ اہل دنیا ر ہیں گے اور کسوف خسوف وَالْكُسُوفُ يَتَعَلَّقَانِ بِنِظَامِ هَذِهِ النّفاقِ اس دنیا کے نظام سے تعلق رکھتے ہیں اور ابتدا سے وَيُوْجَدَانٍ فِيْهِ مِنْ بَلْوِ الْفِطْرَةِ، فَقَبَتَ أَنَّ اس میں بنائے گئے ہیں پس ثابت ہوا کہ وہ کسوف الْخُسُوفَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْقُرْآنُ في صُحُفِهِ خسوف جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے وہ قیامت الْمُطَهَّرَةِ هُوَ مِنَ الْأَثَارِ الْمُتَقَدِّمَةِ عَلَى کے لئے آثار متقدمہ ہیں نہ یہ کہ قیامت کے قائم ہو جانے کی علامتیں ہیں۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) الْقِيَامَةِ (نجم الهدی، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۱۷ تا ۱۲۱) یا درکھنا چاہیے کہ قرآن شریف کی گواہی صحت حدیث کسوف خسوف کی نسبت صرف ایک گواہی نہیں ہے بلکہ دو گواہیاں ہیں ایک تو یہ آیت کہ وَجُمعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ جو پیشگوئی کے طور پر بتلا رہی ہے کہ قیامت