تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 123
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۲۳ سورة القيامة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القيامة بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ التَّوَّامَةِ ۔ اخلاقی حالتوں کے دوسرے سرچشمہ کا نام قرآن شریف میں نفس لوامہ ہے جیسا کہ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ التَّوَّامَةِ یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کام اور ہر ایک بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔ یہ نفس لوامہ انسانی حالتوں کا دوسرا سر چشمہ ہے۔ جس سے اخلاقی حالتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس مرتبہ پر انسان دوسرے حیوانات کی مشابہت سے نجات پاتا ہے۔ اور اس جگہ نفس لوامہ کی قسم کھانا اس کو عزت دینے کے لئے ہے گویا وہ نفس امارہ سے نفس لوامہ بن کر بوجہ اس ترقی کے جناب الہی میں عزت پانے کے لائق ہو گیا ۔ اور اس کا نام لوامہ اس لئے رکھا کہ وہ انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے اور اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ انسان اپنے طبعی لوازم میں شتر بے مہار کی طرح چلے اور چار پایوں کی زندگی بسر کرے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اس سے اچھی حالتیں اور اچھے اخلاق صادر ہوں اور انسانی زندگی کے تمام لوازم میں کوئی بے اعتدالی ظہور میں نہ آوے اور طبعی جذبات اور طبعی خواہشیں اہشیں عقل کے مشورہ سے ظہور پذیر ہوں ۔ پس چونکہ وہ بری حرکت پر ملامت کرتا ہے۔ اس لئے اس کا نام نفس لوامہ ہے یعنی بہت ملامت کرنے والا ۔ اور نفس لوامہ اگر چہ طبعی جذبات پسند نہیں کرتا بلکہ اپنے تئیں ملامت کرتا رہتا ہے لیکن نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور سے قادر بھی نہیں ہو سکتا اور کبھی نہ کبھی طبعی جذبات اس پر غلبہ کر جاتے ہیں۔ تب