تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 114

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۴ سورة المزمل آغاز ہوگا۔یعنی جس طرح موسیٰ نے ابتدا میں جلالی نشان دکھلائے اور فرعون سے چھڑا یا اس طرح آنے والا بی بھی موسی کی طرح ہوگا۔فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الوِلْدَانَ شِيْبَا - السَّمَاءُ مُنْفَطِرُ بِهِ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولاً - یعنی جس طرح ہم نے موسیٰ کو بھیجا تھا۔سورسول اکرم کے وقت کفار عرب بھی فرعونیت سے بھرے ہوئے تھے۔وہ بھی فرعون کی طرح باز نہ آئے جب تک انہوں نے جلالی نشان نہ دیکھ لیا۔سو آنحضرت کے کام موسیٰ کے کام کے سے تھے۔اس موسیٰ کے کام قابل پذیرائی نہ تھے لیکن قرآن نے منوایا۔موسی کے زمانہ میں گو فرعون کے ہاتھ سے نجات اسرائیل کو ملی لیکن گناہوں سے نجات نہ پائی۔وہ لڑے اور کج دل ہوئے اور موسی" پر حملہ آور ہوئے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری پوری نجات دی۔رسول اکرم صلعم اگر طاقت شوکت سلطنت اسلام کو نہ دیتے تو مسلمان مظلوم رہتے اور نجات کفار کے ہاتھ سے نہ پاتے۔واللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ نجات دی کہ مستقل اسلامی سلطنت قائم ہوگئی دوسرا یہ کہ گناہوں سے ان کو نجات ملی۔خدا وند تعالیٰ نے خود ہر دو نقشے کھینچے ہیں کہ عرب پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہوئے۔اگر دونو نقشے اکٹھے کئے جاویں تو ان کی پہلی حالت کا اندازہ لگ جاوے گا۔سو اللہ تعالی نے دونو نجاتیں دیں۔شیطان سے بھی نجات دی اور طاغوت سے بھی۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۳)