تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 113
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۳ سورة المزمل الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۴) میں گھسا ہوگا تو مسلمان بھی گھسیں گے۔قرآن شریف نے بڑی وضاحت کے ساتھ دو سلسلوں کا ذکر کیا ہے ایک وہ سلسلہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام پر آکر ختم ہوا اور دوسرا سلسلہ جو اس سلسلہ کے مقابل پر واقع ہوا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ ہے چنانچہ تو رات میں بھی آپ کو مثیل موسیٰ کہا گیا اور قرآن شریف میں بھی آپ کو مثیل موسیٰ ٹھہرایا گیا جیسے فرمایا ہے إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا پھر جس طرح پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلسلہ حضرت مسیح علیہ السلام پر آکر ختم ہو گیا اسی سلسلہ کی مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اسی وقت اور اسی زمانہ پر جب حضرت مسیح حضرت موسیٰ کے بعد آئے تھے مسیح محمدی بھی آتا اور یہ بالکل ظاہر اور صاف بات ہے کہ مسیح موسوی چودھویں صدی میں آیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ مسیح محمدی بھی چودھویں صدی میں آتا۔اگر کوئی اور نشان اور شہادت نہ بھی ہوتی تب بھی اس سلسلہ کی تکمیل چاہتی تھی کہ اس وقت مسیح محمدی آوے مگر یہاں تو صد با اور نشان اور دلائل ہیں۔انجام جلد ۸ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۴ صفحه ۵،۴) اللہ تعالیٰ نے دو سلسلے قائم کئے تھے۔پہلا سلسلہ سلسلہ موسوی تھا دوسرا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ یعنی محمدی سلسلہ۔اور اس دوسرے سلسلہ کو مثیل ٹھہرایا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مثیل موسیٰ کہا گیا تھا۔توریت کی کتاب استثناء میں یہی لکھا گیا تھا کہ تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی اُٹھاؤں گا اور قرآن شریف میں یہ فرمایا إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً یعنی بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا جو تم پر شاہد ہے۔اسی طرح یہ رسول بھیجا گیا ہے جس طرح فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔( یعنی موسیٰ کی طرح) اب غور کرو کہ اس میں کیا کا لفظ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اس سلسلہ میں بھی کمالات و برکات کی کمی نہ ہوگی۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳) فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَانُ السَّمَاءُ مُنْفَطِرُ 6 به كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولاً یہ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی تھی کہ جس طرح سے پہلے سلسلہ کا آغاز ہوا ویسے ہی اس سلسلہ کا