تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page xiv
صفحه ۱۵۰ ۱۵۳ ۱۵۵ ۱۵۷ ١٦٠ ۱۶۳ ۱۶۳ ١۶۶ ۱۷۱ ۱۶۷ ۱۸۸ ۱۸۹ ۱۹۵ xiii مضمون قرائن بینہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی مرسل کو بھیجے گا انْطَلِقُوا إِلى ظِلَّ ذِي ثَلْثِ شُعَب کی لطیف تفسیر بڑے تعجب کی بات ہے کہ آخری زمانہ کے متعلق جس قدر نشانات تھے ان میں سے بہت پورے ہو چکے ہیں مگر پھر بھی لوگ توجہ نہیں کرتے اس آیت میں لفظ روح سے مرا د رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت ہے خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات اور مقسمات امر رکھا ہے ہوائے نفس کو روکنا یہی فنافی اللہ ہونا ہے اور اس سے انسان خدا کی رضا کو حاصل کر کے اسی جہان میں مقام جنت کو پہنچ سکتا ہے جب تک انسان سچا مجاہدہ نہیں کرتا وہ معرفت کا خزانہ جو اسلام میں رکھا ہے ۔۔۔۔ اس کو نہیں مل سکتا جنت عظمی اور جہنم کبری سے قبل کا درمیانی درجہ تکبر اور شرارت بری بات ہے ایک ذراسی بات سے ستر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں قرآن کریم میں آخری زمانہ کی علامات وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ کی لطیف تشریح إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَت کی لطیف تشریح قرآن کریم میں سماء سے مراد کل مافی السماء کو لیا گیا ہے نمبر شمار ۱۰۲ ۱۰۳ الد ۱۰۵ ١٠٦ ۱۰۷ ۷۰۱ ۱۰۹ ۱۱۰ ۱۱۱ ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴