تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiv of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page xiv

صفحہ ۱۵ ۱۵۳ ۱۵۵ ۱۵۷ 17۔۱۶۳ ۱۶۳ ۱۶۶ 121 ۱۶۷ ۱۸۸ ۱۸۹ ۱۹۵ xiii نمبر شمار ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ 1+4 ۱۰۷ مضمون قرائن بینہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی مرسل کو بھیجے گا انْطَلِقُوا إلى ظلّ ذِي ثَلث شُعَب کی لطیف تفسیر بڑے تعجب کی بات ہے کہ آخری زمانہ کے متعلق جس قدر نشانات تھے ان میں سے بہت پورے ہو چکے ہیں مگر پھر بھی لوگ توجہ نہیں کرتے اس آیت میں لفظ روح سے مرا در سولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت ہے خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات اور مقسمات امر رکھا ہے ہوائے نفس کو روکنا یہی فنافی اللہ ہونا ہے اور اس سے انسان خدا کی رضا کو حاصل کر کے اسی جہان میں مقام جنت کو پہنچ سکتا ہے ۱۰۸ جب تک انسان سچا مجاہدہ نہیں کرتا وہ معرفت کا خزانہ جو اسلام میں رکھا 1+9 ہے۔۔۔۔اس کو نہیں مل سکتا جنت عظمی اور جہنم کبری سے قبل کا درمیانی درجہ تکبر اور شرارت بری بات ہے ایک ذراسی بات سے ستر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں قرآن کریم میں آخری زمانہ کی علامات وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ کی لطیف تشریح إذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ کی لطیف تشریح قرآن کریم میں سماء سے مراد کل مافی السماء کو لیا گیا ہے ۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴