تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 110
+11 سورة المزمل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود کو اس اُمت میں سے پیدا کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں وعدہ فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ نبوت کے اول اور آخر کے لحاظ سے حضرت موسی سے مشابہ ہوں گے۔پس وہ مشابہت ایک تو اول زمانہ میں تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اور ایک آخری زمانہ میں۔سواوّل مشابہت یہ ثابت ہوئی کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا نے آخر کار فرعون اور اس کے لشکر پر فتح دی تھی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر کار ابو جہل پر جو اس زمانہ کا فرعون تھا اور اس کے لشکر پر فتح دی اور اُن سب کو ہلاک کر کے اسلام کو جزیرہ عرب میں قائم کر دیا اور اس نصرت الہی سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا اور آخری زمانہ میں یہ مشابہت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ملت موسوی کے آخری زمانہ میں ایک ایسا نبی مبعوث فرمایا جو جہاد کا مخالف تھا اور دینی لڑائیوں سے اُسے کچھ سروکار نہ تھا بلکہ عفو اور درگزر اس کی تعلیم تھی۔اور وہ ایسے وقت میں آیا تھا جبکہ بنی اسرائیل کی اخلاقی حالتیں بہت بگڑ چکی تھیں اور اُن کے چال چلن میں بہت فتور واقع ہو گیا تھا اور اُن کی سلطنت جاتی رہی تھی اور وہ رومی سلطنت کے ماتحت تھے اور وہ حضرت موسیٰ سے ٹھیک ٹھیک چودھویں صدی پر ظاہر ہوا تھا اور اس پر سلسلہ اسرائیلی نبوت کا ختم ہو گیا تھا اور وہ اسرائیلی نبوت کی آخری اینٹ تھی۔ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسیح ابن مریم کے رنگ اور صفت میں اس راقم کو مبعوث فرمایا اور میرے زمانہ میں رسم جہاد کو اُٹھادیا جیسا کہ پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد کو موقوف کر دیا جائے گا۔اسی طرح مجھے عفوا اور درگزر کی تعلیم دی گئی اور میں ایسے وقت میں آیا جب کہ اندرونی حالت اکثر مسلمانوں کی یہودیوں کی طرح خراب ہو چکی تھی اور روحانیت گم ہو کر صرف رسوم اور رسم پرستی اُن میں باقی رہ گئی تھی اور قرآن شریف میں ان امور کی طرف پہلے سے اشارہ کیا گیا تھا۔لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۲، ۲۱۳) جس طرح صدر زمانہ اسلام میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں جیسا کہ آیت کیا اَرْسَلْنَا إلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا سے ظاہر ہے ایسا ہی آخر زمانہ اسلام میں دونوں سلسلوں موسوی اور محمدی کا اوّل اور آخر میں تطابق پورا کرنے کے لیے مثیل عیسی کی ضرورت تھی جس کی نسبت حدیث بخاری امامُكُمْ مِنْكُمْ اور حديث مسلم آقكُم مِنكُم وضاحت سے خبر دے رہی ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۰،۱۰۹)