تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 111

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المزمل یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک پہلو سے اس پیشگوئی کی حقیقت ظاہر کی جائے۔توریت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک ضروری پیشگوئی محض گول مول ہے کہ ایک نبی موسیٰ کی مانند بنی اسرائیل میں سے اُن کے بھائیوں میں سے آئے گا۔اور کہیں کھول کر نہ بتلایا کہ بنی اسماعیل میں سے آئے گا۔اور اس کا یہ نام اور اس کے باپ کا یہ نام ہوگا۔اور مکہ میں پیدا ہو گا اور اتنی مدت بعد آئے گا۔اس لئے یہود کو اس پیشگوئی سے کچھ بھی فائدہ نہ ہوا۔اور اسی غلطی سے لاکھوں یہود جہنم میں جا پڑے حالانکہ قرآن شریف نے اسی پیشگوئی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فرْعَوْنَ رَسُولًا اور یہود کہتے ہیں کہ مثیل موسیٰ یسوعانبی تھا جو موسیٰ کے فوت ہونے کے بعد اس کا جانشین ہوا۔اور عیسائی کہتے ہیں کہ مثیل موسیٰ عیسی ہے کیونکہ وہ بھی موسیٰ کی طرح منتجی ہو کر آیا ہے۔اب بتلاؤ کہ توریت کی ایسی پیشگوئی کا جس نے کوئی صاف فیصلہ نہ کیا، کیا فائدہ ہوا؟ جس نبی علیہ السلام کی نسبت پیشگوئی تھی نہ یہود اس کو شناخت کر سکے نہ عیسائی اور دونوں گروہ سعادت قبول سے محروم رہے۔( برائن احمد یہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۴۹،۲۴۸) یہ امر کسی پر پوشیدہ نہیں کہ توریت میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیشگوئی ہے وہ انہیں الفاظ میں ہے کہ خدا تعالیٰ تمہارے بھائیوں میں سے موسیٰ کی مانند ایک نبی قائم کرے گا اس مقام میں یہ نہیں لکھا کہ خدا موسیٰ کو بھیجے گا۔پس ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بارے میں توریت کے مطابق بیان فرماتا تا توریت اور قرآن شریف میں اختلاف پیدا نہ ہوتا۔پس اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا یعنی ہم نے اُسی نبی کی مانند تمہاری طرف یہ رسول بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۰۵) قرآن میں رسول اکرم کو مثیل موسی قرار دے کر فرما یا اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً يعنی ہم نے ایک رسول بھیجا جیسے موسیٰ کو فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ہمارا رسول مثیل موسی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحه ۵۳) پہلی کتابوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ بنی اسمعیل میں بھی ایک سلسلہ اسی سلسلہ کا ہم رنگ پیدا ہوگا اور اس کے امام و پیشوا اور سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔توریت میں بھی یہ خبر دی