تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 102
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرے اور یہی ناممکن ہے۔سورة المزمل الحکم جلد ۵ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷۳۱اکتوبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) انسان کو چاہیے کہ ہر ایک کاروبار میں تبتّلُ إِلَيْهِ تبتیلا کا مصداق ہو یعنی ہر ایک کام کو اس طرح سے بجالا وے گویا وہ خود اس میں نفسانی حظ کوئی نہیں رکھتا صرف خدا تعالی کے حکم کی اطاعت کی وجہ سے بجالا رہا ہے اور اسی نیت سے مخلوق کے حقوق کو ادا کرنا دین ہے۔ہر ایک بات اور کام کا آخری نقطہ خدا تعالیٰ کی رضامندی ہونی چاہیے۔اگر دنیا کے لئے ہے تو خدا کا غضب کماتا ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶/ مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۴) اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ) فَعَطى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْ نَهُ أَخَذَ ا وبِيلا ہم نے تمہاری طرف یہ رسول اسی رسول کی مانند بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا سو جب فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس سے ایسا مؤاخذہ کیا کہ جس کا انجام و بال تھا یعنی اسی مؤاخذہ سے فرعون نیست و نابود کیا گیا۔سو تم جو بمنزلہ فرعون ہو ہمارے مؤاخذہ سے کیوں کر نا فرمان رہ کر بیچ سکتے ہو۔(برائین احمد یہ چہار صص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۵۵،۲۵۴ حاشیه ) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے کہ تمہاری حالت معصیت اور ضلالت پر شاہد ہے اور یہ رسول اسی رسول کی مانند ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔(براہین احمدیہ چہار ص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۴۹) میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیروڈلیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اُٹھائی گئی۔سو جب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاء ہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُم رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا تو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اول کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پاکر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم