تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 93
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ سورة الجن برگزیدوں کی شناخت کے لئے قرآن شریف میں یہی معیار ہے کہ ان کی الہامی پیشگوئیوں میں متشابہات کا حصہ کم ہو اور اپنی کثرت اور صفائی میں اس درجہ پر ہوں کہ دنیا میں کوئی ان کا مقابلہ نہ کر سکے ورنہ اس آیت کی رو سے ایک فاسق کو بھی الہام ہو سکتا ہے جو اس درجہ پر نہیں ہے۔مثلاً نظیر کے طور پر ہم بیان کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ کی یہ پیشگوئی که يَأْتِيكَ مِن كُلِّ فَجَ عَمِيقٍ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ جس پر چھبیس برس گزرچکے ہیں ایسے کھلے کھلے طور پر پوری ہوئی ہے کہ نہ ایک دفعہ بلکہ لاکھوں دفعہ اُس نے اپنی سچائی ثابت کر دی ہے جس میں تائید اور نصرت الہی بھری ہوئی ہے۔پس ایسی پیشگوئی بجز خدا کے کسی خاص برگزیدہ کے دوسروں سے ہرگز ظہور میں نہیں آسکتی۔اگر آسکتی ہے تو کوئی اس کی نظیر پیش کرے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۰۶ حاشیه ) انکل باز رتالوں اور کا جنوں کی غیب دانی اور مامور من اللہ اور مہم کے اظہار غیب میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مہم کا اظہار غیب اپنے اندر الہی طاقت اور خدائی ہیبت رکھتا ہے چنانچہ قرآن کریم نے صاف طور پر فرمایا ہے لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ یہاں اظہار کا لفظ ہی ظاہر کرتا ہے کہ اس کے اندر ایک شوکت اور قوت ہوتی ہے۔( الحکم جلد ۲ نمبر ۲۹،۲۸ مورخه ۲۰ تا ۲۷ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحه ۴) نبیوں کا عظیم الشان کمال یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبةٍ أَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ یعنی خدا تعالیٰ کے غیب کی باتیں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتیں ہیں۔ہاں اپنے نبیوں میں سے جس کو وہ پسند کرے، جو لوگ نبوت کے کمالات سے حصہ لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو قبل از وقت آنے والے واقعات کی اطلاع دیتا ہے اور یہ بہت بڑا عظیم الشان نشان خدا کے مامور اور مرسلوں کا ہوتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کوئی معجزہ نہیں۔پیش گوئی بہت بڑا معجزہ ہے۔تمام کتب سابقہ اور قرآن کریم سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہے کہ پیشگوئی سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں ہوتا۔احکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی اس طرح سے بار بار ظاہر کرتا ہے کہ اول ایک امر کو خواب میں دکھاتا ہے پھر اُسے کشف میں۔پھر اس کے متعلق وحی ہوتی ہے اور پھر وحی کی تکرار ہوتی رہتی ہے حتی کہ وہ امرغیب اس کے لیے مشہودہ اور محسوسہ امور میں داخل ہو جاتا ہے اور جس قدر تکرار ایک مہم کے نفس میں ہوتا ہے اسی قدر تکرار اس کے مکالمہ میں ہوا کرتا ہے اور اصفی اور اجلی مکالمہ انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا تزکیہ نفس کرتے