تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 92

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۲ سورة الجن غیب کا ایسا دروازہ کسی پر کھولنا کہ گویا وہ غیب پر غالب اور غیب اس کے قبضہ میں ہے یہ تصرف علم غیب میں بجز خدا کے برگزیدہ رسولوں کے اور کسی کو نہیں دیا جاتا کہ کیا باعتبار کیفیت اور کیا باعتبار کمیت غیب کے دروازے اس پر کھولے جائیں ہاں شاذ و نادر کے طور پر عام لوگوں کو کوئی سچی خواب آسکتی ہے یا سچا الہام ہو سکتا ہے اور وہ بھی تاریکی سے خالی نہیں ہوتا مگر غیب کے دروازے ان پر نہیں کھلتے یہ موہبت محض خدا کے برگزیدہ رسولوں کے لیے ہوتی ہے۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۰،۳۴۹) احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسی اور ابن مریم کہلائے گا۔ اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا یعنی اس کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۶) خدا تعالیٰ صاف صاف اور کھلا کھلا غیب بجز اپنے رسولوں کے کسی پر ظاہر نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ دعوے کے ساتھ کسی پیشگوئی کو بتا متر تصریح شائع کرنا اور پھر اُس کا اسی طرح بکمال صفائی پورا ہونا اس سے زیادہ روشن نشان کی اور کیا علامت ہو سکتی ہے۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۳۵) اس آیت سے قطعی اور یقینی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کھلی کھلی پیشگوئیاں جو مقدار میں زیادہ اور صفائی میں اوّل درجہ پر ہوں صرف خدا کے برگزیدوں کو ہوتی ہیں دوسرے آدمی ان میں شریک نہیں ہوتے ۔ اور جو اس درجہ پر الہام نہیں وہ دوسروں کو بھی ہو سکتے ہیں اور اکثر اُن میں مہمل اور متشابہ الہام ہوتے ہیں۔ پس اسی مقابلہ سے برگزیدے لوگ شناخت کئے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس آیت کی رو سے اس بات کا جواز پایا جاتا ہے کہ وہ الہامی پیشگوئیاں جو اس آیت کے منشاء کے مطابق کھلی کھلی نہ ہوں اور نیز اپنے مقدار میں انسانوں کی معمولی حالت سے بڑھ کر نہ ہوں اور متشابہات کا حصہ اُن پر غالب ہو۔ ایسی الہامی پیشگوئیاں اور ایسے الہام اُن لوگوں کو بھی ہو سکتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ نہیں ہیں اور معمولی انسانوں میں سے ہیں ۔ پس