تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 91

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ سورة الجن کرتا۔ ضروری ہوا۔ صاف اور صریح غیب محض برگزیدہ رسولوں کو دیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ بجز ان لوگوں کے جن کو وہ ہدایت خلق کے لیے بھیجتا ہے کسی دوسرے کو اپنے غیب پر مطلع نہیں غیب کو چنے ہوئے فرستادوں کے سوا کسی پر نہیں کھولا جاتا۔ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۶۰) آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَیبہ احدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ۔۔۔۔ کھلی کھلی پیشگوئی صرف خدا کے مرسلوں کو دی جاتی ہے نہ منجموں سے ہو سکتی ہے نہ دجالوں سے۔ (حجة الله ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه (۱۵۴) قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ سے ظاہر ہے۔ پس مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹ حاشیه ) نشانی آسمانی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴ حاشیه ) نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۱۴) سچی پیشگوئی بجز سچے رسول کے کس کی طرف منسوب ہو سکتی ہے؟ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۶۳ ) اللہ تعالیٰ کے غیب کا کسی پر ظہور نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں پر ہوتا ہے۔ لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۵۷) کھلا کھلا غیب صرف برگزیدہ رسول کو عطا کیا جاتا ہے غیر کو اس میں حصہ نہیں ۔ تجلیات الہیہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۹۸) ہر ایک مومن پر غیب کامل کے امور ظاہر نہیں کئے جاتے بلکہ محض ان بندوں پر جو اصطفاء اور اجتباء کا مرتبہ رکھتے ہیں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِ أَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے غیب پر کسی کو غالب ہونے نہیں دیتا مگر ان لوگوں کو جو اس کے رسول اور اس کی درگاہ کے پسندیدہ ہوں ۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۸۶) کھلی کھلی غیب کی بات بتلانا بجز نبی کے اور کسی کا کام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا - الا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ یعنی خدا اپنے غیب پر بجز برگزیدہ رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرماتا۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۴)